30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2461 -[5] وَعَن عبد بنِ عمرَ قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ سوسلم: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعاؤں سے یہ تھی الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں تیری نعمت کے زائل ہوجانے سے اور تیری عافیت کے منقلب ہوجانے سے ۱؎ اور تیرے اچانک عتاب سے اور تیری تمام ناراضگیوں سے ۲؎ (مسلم) |
۱؎ زوال و انقلاب میں فرق یہ ہے کہ نعمت کا چھن جانا زوال ہے اور نعمت کے عوض نقمت و مصیبت آجانا انقلاب۔نعمت سے مراد اسلام،ایمان، تندرستی،غنا وغیرہ تمام دینی و دنیاوی نعمتیں ہیں،اﷲ تعالٰی دے کر نہ لے وہ تو نہیں چھینتا ہم اپنی بدعملیوں سے زائل کردیتے ہیں"اِنَّ اللہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَابِاَنْفُسِہِمْ"۔
۲؎ یعنی خدایا ہمیں ایسے کاموں سے بچا جو تیری ناراضی کا باعث ہیں ۔
|
2462 -[6] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أعمَلْ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں کیئے کی برائی سے اور نہ کیئے کی برائی سے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی جو برائیاں میں کرچکا ہوں ان کی شر سے بچالے کہ ان کی معافی دے دے اور جو برائیاں ابھی نہیں کی ہیں آئندہ کرنے والا ہوں ان کی شر سے بچالے کہ ان کے نہ کرنے کی توفیق دے یا جو مصیبتیں خود میرے کیئے سے آتی ہیں ان سے بچا اور جو ایک کے کرنے سے ساری قوم پر آتی ہیں نہ کرنے والے بھی رگڑے جاتے ہیں ان سے بچا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاتَّقُوۡا فِتْنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمْ خَآصَّۃً"یا مجھے ناکردہ گناہوں کی مصیبت سے بچا کہ شبہ میں گرفتار بلا ہوجاؤں،اس جملہ کی اور بھی تفسیریں ہوسکتی ہیں۔
|
2463 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يموتون» |
روایت ہے ابن عباس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کہتے تھے الٰہی میں تیرا مطیع ہوا تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر بھروسہ کیا ۱؎ اور تیری طر ف رجوع کیا اور تیرے بھروسہ پر کفار سے جھگڑتا ہوں ۲؎ الٰہی میں تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں،تیرے سوا کوئی معبود نہیں اس سے کہ تو مجھے گمراہ کرے ۳؎ تو وہ زندہ ہے جسے موت نہیں اور تمام جن و انسان مرجائیں گے ۴؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ ظاہری اطاعت کو اسلام اور باطنی فرمانبرداری کو ایمان فرمایا گیا ہے یعنی الٰہی میرا ظاہر و باطن،قالب و قلب تیرا مطیع ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم تو حقیقت بیان فرمارہے ہیں،ہم گنہگار یہ دعا حضور کی نقل کرتے ہوئے پڑھیں ہمیں خود اپنا پتہ ہے کہ کتنے درجے سے مطیع ہیں خدا کرے اصل کی برکت نقل پر بھی آجائے۔
۲؎ یعنی خدایا میں اپنی قوت و طاقت یا فوج و ہتھیار کے بھروسہ پر جہاد نہیں کرتا صرف تیرے بھروسہ پر کرتا ہوں یہ توکل و ہ قوت ہے جو کفار کے پاس نہیں صرف مسلمانوں کو حاصل ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع