30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ صدقات واجبہ،صدقات نفلیہ نہ ادا کرنا،سائل کو بھیک کبھی نہ دینا،مہمان نوازی نہ کرنا،حقوق مالیہ ادا نہ کرنا،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا نام پاک سن کر درود شریف نہ پڑھنا وغیرہ بخل ہے اور تبلیغ کی ہمت نہ ہونا،جہاد میں بزدلی آ جانا،رزق کے معاملہ میں اﷲ پر توکل نہ ہونا،جبن یعنی بزدلی ہے۔مسلمان بھائی سے لڑنے کی ہمت نہ کرنابزدلی نہیں،فضول خرچی سے بچنا بخل نہیں،آج لوگوں نے سخاوت و فضول خرچی یوں ہی بخل و کفایت شعاری،یوں ہی بہادری اور ایذاء رسانی،یوں ہی بزدلی و نرمی دل میں فرق کرنا چھوڑ دیا۔
۷؎ خیال رہے کہ نفس قرض برا نہیں قرض تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی لیا ہے غلبہ دین برا ہے جس کے ادا کی صورت نظر نہ آئے یا جو مقروض کو ذلیل کردے یا جس سے مقروض جھوٹ بولنے وعدہ خلافی کرنے پر مجبور ہوجائے اسی لیے یہاں غلبہ دین کا ذکر فرمایا قہر رجال میں یا تو قرض خواہ ہوں کا غلبہ یا بادشاہ کا ظلم یا ظالموں کا گھیر لینا مراد ہے اﷲ تعالٰی ہر مسلمان کو ان سب مصیبتوں سے محفوظ رکھے۔
۸؎ یعنی یہ دعا میری مجرب بھی ہے تیر بہدف نسخہ ہے،ہر مسلمان ہمیشہ ہی یہ دعا ہر نماز کے بعد ضرو رایک بار پڑھ لیا کرےان شاءاﷲ قرض وظلم سے محفوظ رہے گا۔فقیر بفضل رب قدیر اس کا عامل ہے اس دعا کے زیر سایہ ہر بلا و قرض سے محفوظ ہے۔
|
2449 -[34] وَعَن عليّ: أَنَّهُ جَاءَهُ مُكَاتَبٌ فَقَالَ: إِنِّي عَجَزْتُ عَنْ كتابي فَأَعِنِّي قَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلٍ كَبِيرٍ دَيْنًا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ. قُلْ: «اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ جَابِرٍ: «إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ» فِي بَابِ «تَغْطِيَةِ الْأَوَانِي» إِن شَاءَ الله تَعَالَى |
روایت ہے حضرت علی سے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب آیا بولا میں اپنی ادائے کتابت سے عاجز آگیا ہوں میری کچھ مدد فرمایئے ۱؎ فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے سکھائے تھے اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اﷲ تجھ سے ادا کرادے ۲؎ یہ پڑھا کرو ۳؎ خدایا مجھے اپنے حلال کے ذریعہ اپنے حرام سے تو کافی ہوجا ۴؎ اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۵؎(ترمذی،بیہقی دعوات کبیر)۶؎ اور ہم حضرت جابر کی یہ حدیث کہ جب تم کتوں کا رونا سنو،الخ برتن ڈھکنے کے باب میں ان شاءاﷲ ذکر کریں گے ۷؎ |
۱؎ یعنے میرے مولا نے کچھ مال پر میری آزادی موقوف رکھی ہے جسے ادا کرکے میں آزاد ہوں اور میرے پاس وہ مال نہ ہے اور نہ اس کے حاصل کرنے پر قدرت ہے،براہ کرم مال یا دعا سے میری مدد فرمائیں۔ معلوم ہوا کہ حضرت علی بفضل اﷲ العلی مشکلکشا دافع بلا ہیں،ان سے مصیبت میں مدد لینا شرک نہیں بلکہ سنت بزرگاں ہے۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ جناب علی نے دانستہ طور پر اس کی مالی مدد نہ کی کہ اس سے اس کا کام تو چل جاتا مگر اسے غنا میسر نہ ہوتا،آپ نے اسے وہ دعا بتائی جس سے وہ ہمیشہ کے لیے لوگوں سے غنی ہوگیا وقتی حاجت روائی سے سائل کو غنی بنا دینا بہتر ہے۔
۳؎ ہر نماز کے بعد ایک بار۔غالب یہ ہے کہ لفظ قل حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا تھا اور ہوسکتا ہے کہ آپ کا خود اپنا قول ہو۔(مرقات)مشائخ کو ہمیشہ حسب ضرورت اوراد وظیفہ ایجاد کرنے کا حق ہے جیسے اطباء کو معجونیں دوائیں ایجاد کرنے کا حق ہے اور منقولہ دعاؤں کی اجازت دینے کا بھی اختیارہے۔
۴؎ یعنی حلال روزی بھی اتنی دے کہ مجھے حرام کی طرف توجہ نہ ہو اور میرے دل میں حرص بھی نہ پیدا ہونے دے تاکہ میں حرام سے بچا رہوں خلاصہ یہ ہے کہ کفایت وہ قناعت دونوں نصیب کر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع