30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ مکروب سے مراد وہ شخص ہے جس کو کسی خاص غم و رنج یا فکر نے گھیر لیا ہو جس سے خلاصی کی صورت نہ بنتی ہو،چونکہ یہ دعا بہت سی دعاؤں پر مشتمل ہے اس لیے اسے دعوات یعنی دعائیں فرمایا گیا،یہ دعا دفع رنج و غم کے لیے بہت مجرب ہے۔
۲؎ یعنی میں صرف تیری رحمت ہی کا امیدوار ہوں اور تیرا نام رجاء السائلین بھی ہے کوئی آس لگا کر آنے والا سائل تیرے در سے مایوس نہیں لوٹتا۔لہذا مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کردے کہ میرا سب سے بڑا دشمن یہ ہی ہے اور ساتھ ہی میں کمزور بھی ہوں،میں کسی چیز میں تیری مدد کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا۔
۳؎ اسے ابن حبان،ابن ابی شیبہ،ابن سنی،طبرانی نے بھی روایت کیا۔
|
2448 -[33] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: هُمُومٌ لَزِمَتْنِي وَدُيُونٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلَامًا إِذَا قُلْتَهُ أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّكَ وَقَضَى عَنْكَ دَيْنَكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: بَلَى قَالَ: " قُلْ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ ". قَالَ: فَفعلت ذَلِك فَأذْهب الله همي وَقضى عَن ديني. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ مجھے غم و قرض چمٹ گئے ۱؎ فرمایا تو کیا میں تمہیں وہ دعا نہ سکھادوں کہ جب تم اسے پڑھ لو تو اﷲ تمہارے غم مٹادے اور تمہارا قرض اتار دے ۲؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں ضرور،فرمایا روزانہ صبح اور شام کے وقت یہ پڑھ لیا کرو ۳؎ الٰہی میں رنج و غم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۴؎ اور عاجزی و سستی سے تیری پناہ لیتا ہوں ۵؎ اور کنجوسی و بزدلی سے تیری پناہ لیتا ہوں ۶؎ اور قرض کے چھاجانے اور لوگوں کے غالب آجانے سے تیری پناہ لیتا ہوں ۷؎ فرماتے ہیں میں نے یہ عمل کیا تو اﷲ نے میرا غم مٹا دیا اور میرا قرض ادا کردیا ۸؎(ابوداؤد) |
ا؎ مرقات نے فرمایا کہ اس عرضی کا مقصود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے استغاثہ یعنی طلب مدد اور فریاد کرنا ہے یعنی مجھے ایسے بڑے غم و قرض نے گھیر لیا جو کسی طرح دفع نہیں ہوتے،آپ سے فریاد ہے کیوں کہ آپ خالق و مخلوق کے درمیان وسیلہ عظمیٰ ہیں،انہیں آپ کا وسیلہ عظمٰی ہی دور کرسکتا ہے۔(مرقات)معلوم ہوا کہ مصیبتوں میں حضور علیہ السلام کی پناہ لینا حضور علیہ السلام سے مدد مانگنا سنت صحابہ ہے شرک نہیں۔
۲؎ یعنی اس دعا کی برکت اور میرے وسیلے اور میری تعلیم کے اثر سے رب تعالٰی تمہارے رنج و قرض سب کچھ دور کردے گا،کام رب ہی کرتا ہے مگر وسیلہ کے ذریعہ سے۔بزرگوں سے حاصل کی ہوئی دعاؤں میں دو تاثیریں ہوتی ہیں:الفاظ کی تاثیر اور ان کی زبان کی تاثیر،تلوار کسی کی سان پر رکھو،تیز کرو پھر اس سے وار کرو۔
۳؎ صبح شام سے مراد یا تو بعد نماز فجر و مغرب کے اوقات میں یا ہمیشہ پڑھنا۔(مرقات)صوفیاء خاص ضرورت پر ہر نماز کے بعد ایک ایک بار یہ دعا پڑھا کرتے ہیں۔
۴؎ ھم وحزن یا تو ہم معنے ہیں یا ان میں کچھ فرق ہے،کیا فرق ہے؟اس میں بہت گفتگو ہے۔صحیح تر یہ ہے کہ آئندہ مصیبت کے خطرہ کو ھم کہتے ہیں اور گزشتہ نازل شدہ مصیبت کی تکلیف کو حزن اسی لیے پختہ ارادے کو ھم کہا جاتا ہے "وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہٖ"یا تکلیف دہ چیز واقع ہوجانے پر جو صدمہ ہے وہ ھم اور کسی مطلوب کے فوت ہوجانے پر صدمہ حزن۔ واﷲ اعلم! بہرحال یہ دعا بہت جامع ہے۔
۵؎ یعنی نیکی پر قادر نہ ہونے اور قادر ہو کر اس کے کرنے میں بوجھل ہوجانے سے تیری پناہ،عجز و کسل میں یہ ہی فرق ہے،نیکی پر قدرت بھی اﷲ کی رحمت ہےاور قدرت کے بعد کرلینے کا موقعہ مل جانا یعنی توفیق بھی اس کا کرم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع