30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس وقت جو دل کا حال ہوتا ہے وہ وداع ہونے والا ہی جانتا ہے۔شعر
بدن سے جان نکلتی ہے آہ سینے سے ترے فدائی نکلتے ہیں جب مدینے سے
روضہ اچھا زائر اچھے،اچھی راتیں،اچھے دن سب کچھ اچھا ایک رخصت کی گھڑی اچھی نہیں
۲؎ یہ حضور کی بندہ نوازی اور شان کریمانہ ہے کہ غلاموں سے خود ہاتھ نہیں چھوڑاتے،اب بھی وہ ہم گنہگاروں کو خود نہیں چھوڑتے،اﷲ تعالٰی ان کے قدموں سے وابستگی عطا کرے۔
۳؎ یعنی خدا تیرے دین و ایمان و خاتمہ کی حفاظت کرے،سب کچھ اس کے سپرد ہے۔امانت سے مراد یا تو اعمال شرعیہ ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ"الخ یا مسافروں کے آپس کے اخلاق و مالی معاملات،چونکہ سفر میں کبھی آپس میں تلخی ترشی بھی ہوجاتی ہے اس لیے خصوصیت سے اس کا ذکر فرمایا۔اس دعا میں لطیف اشارہ اس جانب بھی ہے کہ اے مدینہ میں میرے پاس رہنے والے اب تک تو تو میرے سایہ میں تھا کہ ہر مسئلہ مجھ سے پوچھ لیتا تھا ہر مشکل مجھ سے حل کرلیتا تھا اب تو مجھ سے دور ہورہا ہے کہ ہر حاجت میں مجھ سے پوچھ نہ سکے گا تو تیرا ہر کام خدا کے سپر دہے۔ کیسی پیاری دعا ہے اورکسی مبارک وداع! آخر عمل سے مراد وقت موت ہے یعنی اگر اس سفر میں تجھے موت آئے تو ایمان پر آئے،تیری زندگی و موت رب کے حوالہ۔
|
2436 -[21] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْخَطْمِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَوْدِعَ الْجَيْشَ قَالَ: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وأمانتكم وخواتيم أَعمالكُم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عبداﷲ خطمی سے ۱؎ فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی لشکر کو وداع کرنا چاہتے تھے تو کہتے میں تم لوگوں کا دین تم لوگوں کی امانت تم لوگوں کے آخری عمل اﷲ کے سپرد و حوالے کرتا ہوں ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ آپ کا نام ابوموسٰے عبداﷲ ابن زید ابن حصین ابن عمرو ابن حارث ابن حطمہ ابن خشعم ابن مالک ابن اوس ہے،سترہ برس کی عمر میں صلح حدیبیہ میں حاضر ہوئے تھے،عبداﷲ ابن زبیر کے زمانہ میں کوفے کے حاکم رہے،وہاں ہی وفات پائی۔
۲؎ اس کی شرح ابھی ہوچکی،چونکہ یہاں پورے لشکر کو وداع فرمانا ہے،اس لیے ضمیر جمع لائی گئی۔معلوم ہوا کہ لشکرِ اسلام جنگی سامان کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی دعائیں بھی ساتھ لیتا تھا۔محمود غزنوی جب سومناتھ مندر حملہ آور ہوا تھا تو حضرت خواجہ ابوالحسن خرقانی کی دعائیں اور ان کا جبہ ساتھ لایا تھا،ان مجاہدین کی تلواریں آستانہ محبوبین پر دھاروار ہوتی تھیں۔
|
2437 -[22] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ سَفَرًا فَزَوِّدْنِي فَقَالَ: «زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى» . قَالَ: زِدْنِي قَالَ: «وَغَفَرَ ذَنْبَكَ» قَالَ: زِدْنِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ: «وَيَسَّرَ لكَ الْخَيْر حيثُما كُنْتَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا یارسول اﷲ میں سفر کا ارادہ کررہا ہوں مجھے کچھ توشہ دیجئے ۱؎ فرمایا اﷲ تمہیں پرہیزگاری کا توشہ دے ۲؎ عرض کیا کچھ زیادہ دیجئے فرمایا تمہارے گناہ بخش دے عرض کیا میرے ماں باپ فدا کچھ اور عطا کیجئے ۳؎ فرمایا اﷲ تمہیں بھلائی میسر کرے تم جہاں بھی ہو ۴؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۵؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع