30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2432 -[17] وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو يَقُولُ: اللهُمَّ إِني أسألكَ تمامَ النعمةِ فَقَالَ: «أيُّ شَيْءٍ تَمَامُ النِّعْمَةِ؟» قَالَ: دَعْوَةٌ أَرْجُو بِهَا خَيْرًا فَقَالَ: «إِنَّ مِنْ تَمَامِ النِّعْمَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ وَالْفَوْزَ مِنَ النَّارِ» . وَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ: «قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ» . وَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ فَقَالَ: «سَأَلْتَ اللَّهَ الْبَلَاءَ فَاسْأَلْهُ الْعَافِيَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو دعا مانگتے ہوئے یہ کہتے ہوئے سنا الٰہی میں تجھ سے پوری نعمت مانگتا ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا پوری نعمت کون چیز ہے ۱؎ وہ بولا کہ یہ ایک دعا ہے جس سے میں بھلائی کی امید کرتا ہوں ۲؎ تو فرمایا کہ پوری نعمت جنت کا داخلہ اور آگ سے نجات ہے ۳؎ اور ایک شخص کو کہتے سنا اے بزرگی و اکرام والے تو فرمایا تیری قبول ہوگئی اب مانگ لے ۴؎ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا الٰہی میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں تو فرمایا کہ تو آفت مانگ رہا ہے اﷲ سے عافیت مانگ ۵؎(ترمذی) |
۱؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ سوال امتحان کے طور پر ہے کہ تیری دعا تو بڑی ہی پیاری ہے،بتا تو نے اس کا مطلب کیا سمجھا ہے اور کس نیت سے یہ دعا مانگتا ہے۔ معلوم ہوا کہ دعا کے الفاظ بھی اچھے چاہئیں اور نیت بھی اعلیٰ،وہاں لفظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہے۔
۲؎ بھلائی سے مراد بہت مال ہے یعنی تمام نعمت سے میری مراد بہت سا مال ہے رب مجھے خوب مالدار کردے،سچ ہے۔
ع فکر ہر کس بقدر ہمت اوست
۳؎ یعنی پہلے ہی جنت میں پہنچ جانا اس طرح کہ دوزخ میں بالکل نہ جائے یہ تمام نعمت ہےاور اگر دوزخ میں کچھ سزا پا کر پھر جنت میں جائے تو یہ بھی اگرچہ نعمت تو ہے مگر پہلی نعمت اس سے اعلٰی ہے۔ خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے من فرما کر یہ بتایا کہ اور چیزیں بھی تمام نعمت ہیں لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں "وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِیۡ عَلَیۡکُمْ" اسلام پر جینا ایمان پر مرنا بھی تمام نعمت ہے۔مقصد یہ ہے کہ صرف مال کی زیادتی تمام نعمت نہیں تو اس کی نیت ہی نہیں کیا کر بلکہ آگ سے نجات کی نیت کر۔
۴؎ بعض لوگوں نے ذو الجلال و الاکرام کو اسم اعظم مانا ہے ان کی دلیل یہ حدیث بھی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حمد الٰہی قبول دعا کے لیے اکسیر اعظم ہے پھر جیسی اعلٰی حمد ہوگی ویسی ہی اعلٰی قبولیت بھی ہوگی ان شاءاﷲ۔یہ ہی درود شریف کا حال ہےکہ جس قدر اخلاص کے ساتھ جیسا اعلٰی درود شریف ہوگا ویسی ہی دعا کی قبولیت۔
۵؎ یعنی صبر تو آفت یا مصیبت پر ہوتا ہے تو صبر مانگنا در پردہ اپنی آفتوں کا مانگنا ہے بلکہ آفت آجانے پر بھی بعض اولیاءاﷲ صبر نہیں مانگتے بلکہ آفت کا دفعیہ مانگتے ہیں،ہاں بوقت امتحان صبر طلب کرتے ہیں جیسے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے جناب حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کی خبر بھی دی اور صبر کی دعا بھی غرضکہ مختلف موقعے مختلف ہی دعا حسب حال مانگنی چاہیے۔
|
2433 -[18] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کسی جگہ بیٹھے جہاں شور و شغب زیادہ ہو ۱؎ تو اٹھنے سے پہلے یہ کہہ لے پاک ہے تو اے اﷲ اور تیری حمد ہے ۲؎ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۳؎ مگر اس کی تمام وہ حر کات معاف کردی جائیں گی جو اس مجلس میں ہوئیں ۴؎ (ترمذی،بیہقی،دعوات کبیر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع