30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ مَا مو صولہ ہے اور جملہ مبتداء ہے جس کی خبر پوشیدہ ہے یعنی مجھے جتنی تکلیف پہنچی بیان نہیں کرسکتا یا مَا استفہامیہ ہے اور استفہام تعجب کے لیے یعنی تعجب ہے کہ مجھے کتنی تکلیف پہنچی۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دعا ہمیشہ ہی پڑھنی چاہیے،صبح کے وقت پڑھ لینے سے شام تک زہریلی چیزوں سے امن ہے اور شام کو پڑھ لینے سے صبح تک امن۔
|
2424 -[9] وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَأَسْحَرَ يَقُولُ:«سمع سامع يحمد الله وَحسن بلائه علينا وربناصَاحِبْنَا وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ».رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم جب سفرمیں ہوتے اور سویرا پاتے تو یہ فرماتے سننے والے سن لیں کہ ہم اﷲ کی حمد کرتے ہیں اس کی ہم پر اچھی نعمت ہے ۱؎ اے ہمارے رب تو ہمارا ساتھی ہو جا اور ہم پر فضل کر۲؎ آگ سے اﷲ کی پناہ لیتا ہوں ۳؎(مسلم) |
۱؎ اس جملہ کی قرأت اور ترجمے میں شارحین نے بہت موشگافیاں کی ہیں۔فقیر صرف ایک مطلب عرض کرتا ہے سمّع یا تو تفعیل کا ماضی ہے یا باب علم کا اور بہرحال ماضی بمعنی خبر ہے یعنی ہر سننے والا ہماری حمد سن لے یا ہر سننے والا ہماری حمد دوسروں کو سنا دے تاکہ کل قیامت میں گواہی دے۔بلاء سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو بغرض امتحان ہم کو دی گئیں اور حسن کا عطف حمد پر ہے اور یہاں اقرار پوشیدہ ہے یعنی ہر سننے والا ہماری حمد بھی سن لے اور رب تعالٰی اچھی آزمائش یعنی اس کی نعمتوں کا اقرار بھی سن لے کہ ہم نعمتوں کے اقراری ہیں ان پر شاکر ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَنَبْلُوۡکُمۡ بِالشَّرِّ وَ الْخَیۡرِ فِتْنَۃً"یہ معنے آسان بھی ہیں اور بہتر بھی،باقی اپنے حبیب کی مراد کو رب جانے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنے ایمان و اعمال پر لوگوں بلکہ پانی و ذروں کو گواہ بنالینا بہتر ہے کہ کل قیامت میں ان کی گواہی کام دے گی،یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ سمع خبر ہی ہو اور معنی یہ ہوں کہ ہماری حمد ڈھکی چھپی نہیں بلکہ سننے والوں نے سنی ہے وہ خوب جانتے ہیں۔
۲؎ یعنی الٰہی تو ہمارا حافظ و ناصر ہوجا اور ہم پر اپنا فضل و کرم دائم قائم رکھ۔
۳؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ بھی اس دعا کا جز ہےاور حضور علیہ السلام کا فرمان یعنی میں آگ سے اﷲ کی پناہ لیتے ہوئے یہ کہہ ر ہا ہوں اور ہوسکتا ہے کہ یہ راوی کا کلام ہو یعنی حضور علیہ السلام رب کی پناہ لیتے ہوئے یہ کلمات فرماتے تھے۔عائذا مصدر نہیں بلکہ اسم فاعل ہی ہے۔
|
2425 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الْأَرْضِ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ ثُمَّ يَقُولُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كلِّ شيءٍ قديرٌ آيِبونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب جہاد یا حج یا عمرہ سے واپس ہوتے ۱؎ تو ہر اونچی زمین پر تین بار تکبیر کہتے ۲؎ پھر کہتے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے ،اس کا کوئی شریک نہیں ،اسی کا ملک ہے ،اسی کی تعریف ہے ،وہ ہر چیز پر قادر ہے ۳؎ ہم لوٹ رہے ہیں ،توبہ کرتے ہیں ،عبادت کرتے ہیں ،سجدے کرتے ہیں ،اپنے رب کی حمد کرتے ہیں ۴؎ اﷲ نے اپنا وعدہ سچا کردیا اپنے بندے کی مدد سے اور احزاب کو اکیلے ہی بھگادیا ۵؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع