30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ وعثاء و عثٌ سے بنا بمعنی نقصان یا وہ مشقت جو رب کے ذکر اور آخرت کی فکر سے روک دے،چونکہ سفر گوسفر یعنی دوزخ کا ٹکڑا ہے اس کے لیے یہ دعا فرماتے۔
۲؎ اس طرح کہ جب گھر لوٹوں تو کوئی نقصان دہ چیز نہ دیکھوں،اسی طرح جب سفر دنیا سے وطن آخرت کی طرف واپس جاؤں تو کوئی مصیبت نہ اٹھاؤں،اس دعا میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"وَسَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ"۔
۳؎ کور عمامہ کے پیچ کو کہتے ہیں اور حور اس پیچ کا کھل جانا یعنی زیادتی کے بعد نقصان،اصلاح کے بعد فساد،جمع ہونے کے بعد بکھرنا،جماعت میں ہونے کے بعد الگ ہوجانا،آرام کے بعد تکلیف،بھلائی کے بعد برائی،ثابت قدمی کے بعد بدل جانا ان سب سے تیری پناہ،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ"اور فرماتا ہے:"یُکَوِّرُ الَّیۡلَ عَلَی النَّہَارِ"۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ ترقی کے بعد تنزل،توبہ کے بعد گناہ،ذکر کے بعد غفلت،حاضری کے بعد غائب ہوجانا ان سب سے پناہ۔ (لمعات،مرقات مع زیادت)
۴؎ چونکہ سفر میں ساتھیوں سے جھگڑے بھی ہوجاتے ہیں،خصوصًا عرب میں پانی پر اور کبھی ان جھگڑوں میں ظلم بھی ہوجاتا ہے اس لیے سفر کے موقعوں پر مظلوم کی بددعا سے خصوصیت سے پناہ مانگی گئی،مظلوم کی بددعا اور قبولیت کے درمیان حجاب نہیں۔
|
2422 -[7] وَعَن خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يرحل من منزله ذَلِك ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت خولہ بنتِ حکیم سے ۱؎ فرماتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا،جو کسی منزل پر اترے تو یہ کہہ لے میں اﷲ کے پورے و کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں اس کی ساری مخلوق کی شر سے ۲؎ تو اس منزل سے کوچ کرتے وقت تک اسے کوئی چیز نقصان نہ دے گی ۳؎(مسلم) |
۱؎ آپ حضرت عثمان ابن مظعون کی بیوی ہیں،نہایت نیک اور عالمہ تھیں مگر آپ سے صرف یہی ایک حدیث منقول ہے۔
۲؎ ان کلمات سے مراد یا تو قرآن کریم ہے یا ساری آسمانی کتب یا اسمائے الہیہ یا رب کا کلام نفسی یا اس کا علم یا اس کے فیصلے۔تام سے مراد ہے نقصان و عیب سے پاک۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ کلمات اﷲ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ہیں کیونکہ ان کی ہر بات وحی الٰہی ہے،عیسیٰ علیہ السلام کلمۃ اﷲ ہیں،موسیٰ علیہ السلام کلیم اﷲ ہیں اور ہمارے حضور کلمات اﷲ۔مخلوق سے وہ مخلوق مراد ہے جس سے شر ہوسکے،اس میں اپنا نفس بھی داخل ہے اور چیزیں بھی۔
۳؎ کفار عرب سفر کی منزلوں میں اترتے وقت کہتے تھے کہ ہم اس جنگل کے سردار کی پناہ لیتے ہیں یعنی جنات کی،اﷲ کے محبوب نے تو ہم کو اس کے عوض یہ دعا سکھائی۔یہ دعا سفر و حضر میں ہمیشہ ہی صبح شام پڑھا کریں،زہریلی چیزوں سے محفوظ ر ہو گے بہت مجرب ہے۔
|
2423 -[8] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَقِيتُ مِنْ عَقْرَبٍ لَدَغَتْنِي الْبَارِحَةَ قَالَ: " أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خلق لم تَضُرك ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بولا یا رسول اﷲ آج رات مجھے بچھو کے کاٹ لینے سے بہت ہی تکلیف پہنچی ۱؎ فرمایا اگر تم شام کے وقت یہ کہہ لیتے کہ میں اﷲ کے کامل کلموں کی پناہ لیتا ہوں تمام مخلوق کی شر سے تمہیں بچھو تکلیف نہ پہنچاسکتا۲؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع