30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3073 -[4] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «إِنِ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ: «الْوَلَدُ لِلْفَرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ» 3074 -[5] وَيُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ» مُنْقَطِعٌ هَذَا لَفْظُ الْمَصَابِيحِ. وَفِي رِوَايَةِ الدَّارَقُطْنِيِّ: قَالَ: «لَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاء الْوَرَثَة» |
روایت حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے خطبہ میں حجتہ الوداع کے سال فرماتے سنا ۱؎ کہ اﷲ نے ہر حقدار کو اس کا حق دیا ہے لہذا وارث کے لیے وصیت نہیں ۲؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)اور ترمذی نے یہ بڑھایا کہ بچہ بستر والے کا ہے اور زنانی کے لیے پتھر ہیں ۳؎ ان کا حساب اﷲ کا ذمہ ہے ۴؎ اور حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے یوں راوی کہ فرمایا وارث کے لیے وصیت نہیں مگر یہ کہ وارث راضی ہوں یہ منقطع ہے ۵؎ یہ مصابیح کے الفاظ ہیں اور دار قطنی کی روایت میں ہے کہ فرمایا وارث کے لیے وصیت جائز نہیں مگر جب کہ وارث راضی ہوں۶؎ |
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ اس خطبہ سے مراد حج کا خطبہ ہے جو آپ نے عرفات میں دیا اور ہوسکتا ہے کہ کوئی اور خطبہ مراد ہو۔
۲؎ آیات میراث آنے سے پہلے اہل قرابت کے لیے وصیت کرنا ازروئے قرآن فرض تھی کہ رب نے فرمایا:"کُتِبَ عَلَیۡکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ اِنۡ تَرَکَ خَیۡرَۨا الْوَصِیَّۃُ لِلْوٰلِدَیۡنِ وَالۡاَقْرَبِیۡنَ"۔آیات میراث سے یہ فرضیت منسوخ ہوگئی مگر جواز وصیت کا نسخ اس حدیث سے ہوا کہ اب جسے ایک پائی میراث ملے اس کے لیے وصیت نہیں ہوسکتی۔معلوم ہوا کہ قرآن کا نسخ حدیث سے جائز بلکہ واقع ہے ۔
۳؎ بیوی اور لونڈی کو فراش کہا جاتا ہے کیونکہ اسے اپنے خاوند اور مولٰی کے بستر پر لیٹنے کا حق ہے۔مطلب یہ ہے کہ اگرکسی کی لونڈی یا بیوی کے بچے کے متعلق کوئی اجنبی شخص کہے کہ یہ بچہ میرا ہے تو اس کی بات نہ مانی جائے گی بچہ اس عورت کے خاوند یا مالک کا ہوگا، ہاں اس کہنے والے کو زنا کی سزا دی جائے گی کہ اس نے زنا کا اقرار کرلیا۔حجرسے مراد رجم ہے اور اگر یہ شخص اس قول سے توبہ کر لے تب بھی اسے حد قذف لگے گی یعنی پاکدامن عورت کو تہمت لگانے کی سزا۔
۴؎ اس جملہ کے کئی معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ اگر اس نے زنا کا جھوٹا اقرار کیا ہے اور ہم نے سزا دے دی تو ہم مجرم نہیں۔دوسرے یہ کہ زنا کی سزا دینے کے بعد بھی زانی کی بخشش یقینی نہیں،رب چاہے تو معاف کرے۔تیسرے یہ کہ جن گناہوں کی شریعت میں سزا نہیں ہے ان کا حساب اﷲ کے ہاں ہے ۔(مرقات،لمعات)
۵؎ منقطع وہ روایت ہے جس میں تابعی سے پہلے کوئی راوی رہ گیا ہو یا راوی کا نام نہ مذکور ہو بلکہ رجلٌ یا شیخٌ کہہ دیا گیا ہو کیونکہ مجہول مثل معدوم کے ہے۔(مرقات)
۶؎ یعنی وارث کے لیے وصیت جائز نہ ہونا دوسرے وارثوں کے حق کی وجہ سے تھا اگر وہی اس کو جائز کردیں تو جائز ہے،یہی مسئلہ تمام آئمہ کے ہاں ہے اگرچہ اس کی ایک اسناد منقطع ہے مگر چونکہ دوسری اسنادیں متصل بھی ہیں اس لیے یہ حدیث صحیح ہے۔
|
3075 -[6] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةَ بِطَاعَةِ اللَّهِ سِتِّينَ سَنَةً ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ» ثُمَّ قَرَأَ أَبُو هُرَيْرَةَ(مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غير مضار)إِلَى قَوْله(وَذَلِكَ الْفَوْز الْعَظِيم)رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی حضور انور نے فرمایا کہ ایک مرد و عورت ساٹھ سال اﷲ کی اطاعت کے کام کرتے رہتے ہیں پھر انہیں موت آتی ہے ۱؎ تو وصیت میں کسی کو نقصان پہنچا جاتے ہیں ۲؎ ان کے لیے آگ واجب ہوجاتی ہے ۳؎ پھر حضرت ابوہریرہ نے یہ آیت تلاوت کی بعد ادائے قرض وصیت کے جو وہ کر گیا ہے جب کہ کسی کو نہ نقصان دیا ہو باری تعالٰی کے فرمان تک یہ بڑی کامیابی ہے ۴؎(احمد،ترمذی،ابواؤد، ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع