30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تائید ہوتی ہے۔مؤمن اور واقف شریعت تو حضور کے ہر حکم پرمرمٹتا ہے۔ابوداؤد کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاذ تھے،خدا معلوم کون معاذ مراد ہیں اگر معاذ ابن جبل مراد ہیں تو یہ واقعہ یا ان کے اسلام سے پہلے کا ہے یا بالکل نو مسلم ہونے کے وقت کا۔
|
2419 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَسَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانا» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب تم مرغ کی اذان سنو تو اﷲ سے اس کا فضل مانگو ۱؎ کیونکہ مرغ فرشتہ کو دیکھتا ہے ۲؎ اور جب تم گدھے کا ہینگنا سنو تو مردود شیطان سے اﷲ کی پناہ مانگوکیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے ۳؎ (مسلم،بخاری)۴؎ |
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں ہرمرغ کی ہر آواز مراد ہے جسے ہم مرغ کا اذان دینا کہتے ہیں۔بعض لوگوں نے تہجد کے وقت کی مرغ کی آواز مراد لی،بعض نے صبح صادق کے وقت کی آوازمگر پہلے معنے زیادہ ظاہر ہیں کہ حدیث میں کوئی قید نہیں،مرغ کی ہر اذان پر دعا مانگنا چاہیے۔
۲؎ یعنی مرغ رحمت کا فرشتہ دیکھ کر بولتا ہے،اس وقت کی دعا پر فرشتے کے آمین کہنے کی امید ہے۔بعض روایات میں ہے کہ عرش اعظم کے نیچے ایک سفید مرغ ہے اس کی آواز پر زمین کے مرغ بولتے ہیں۔واﷲ اعلم!(اشعہ)اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی مجلس میں دعا کرنی چاہیےکیونکہ جب بزرگوں کے ذکر پر اﷲ کی رحمت اترتی ہے تو ان لوگوں کی موجودگی تو بڑی ہی رحمت کا باعث ہے۔(مرقات)اولیاءاﷲ فرشتو ں سے افضل ہیں،جب فرشتے کی موجودگی سے دعائیں قبول ہوتی ہیں تو اولیاءاﷲ کی موجودگی یقینًا باعث قبولیت ہے۔معلوم ہوا کہ جانور غیبی فرشتوں کو دیکھ لیتے ہیں۔
۳؎ یعنی گدھا کسی خاص شیطان کو دیکھ کر بولتا ہے اکثر اس کا بولنا شہوت میں ہوتا ہے،یہ اعلان کرکے مادہ سے صحبت کرتا ہے اس وجہ سے بھی یہ آواز خبیث ہے،رب تعالٰی نے اس کے متعلق فرمایا:"اِنَّ اَنۡکَرَ الْاَصْوٰتِ لَصَوْتُ الْحَمِیۡرِ"بدترین آواز گدھے کی ہے اور فرمایا:"لَہُمْ فِیۡہَا زَفِیۡرٌ وَّشَہِیۡقٌ"دوزخیوں کی آواز گدھوں کی سی ہوگی۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بروں کی آمد پر اور بروں کو دیکھ کر اعوذ باﷲ پڑھنی چاہیے۔دوسرے یہ کہ بری بکواس کی آواز گدھے کی سی آواز ہے،غیبت،جھوٹ،گانے بجانے،بے دینی کی تقریریں اسی میں داخل ہیں کہ یہ سب شہوت نفسانی کی آواز ہیں۔
۴؎ یہ حدیث ابوداؤد،ترمذی،نسائی،حاکم نے بھی روایت کی ہے۔
|
2420 -[5] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى السَّفَرِ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ)اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ لَنَا بُعْدَهُ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ والأهلِ ". وإِذا رجعَ قالَهنَّ وزادَ فيهِنَّ: «آيِبُونَ تائِبُونَ عابِدُونَ لربِّنا حامدون» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب سفر کو نکلتے ہوئے اونٹ پر سوار ہوجاتے تو تین بار تکبیر کہتے ۱؎ پھر یہ فرماتے پاک ہے وہ اﷲ جس نے اسے ہمارا تابع کر دیا ہم اسے مطیع نہ کرسکتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں۲؎ الٰہی ہم تجھ سے اپنے سفر میں بھلائی پرہیز گاری اور تیرے پسندیدہ عمل کی توفیق مانگتے ہیں ۳؎ اے اﷲ ہم پر اس سفر کو آسان فرمادے اور اس کی درازی سمیٹ لے۴؎ اے اﷲ تو ہی سفر میں ساتھی ہے اور گھر بار میں والی ہے ۵؎ اے اﷲ میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی مشقتوں سے اور برے انتظار سے اور بری واپسی سے مال اور گھر بار میں ۶؎ جب واپس ہوتے تو بھی یہی فرماتے ان کلمات میں سے اور بڑھادیتے ہم لوٹنے والے توبہ کرنے والے رب کے ثنا گو ہیں ۷؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع