30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3064 -[24] وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا السُّنَةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ: «هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ |
روایت ہے حضرت تمیم دارمی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ اس مشرک آدمی کے متعلق شرعی طریقہ کیا ہے جو مسلمانوں میں سے کسی کے ہاتھ پر ایمان لائے ۲؎ فرمایا وہ مسلمان اس مشرک کا زندگی اور موت میں والی ہے۳؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی) |
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،پہلے عیسائی تھے، ۹ھ میں اسلام لائے،بڑے عابد و زاہد تھے،رات کو ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کرتے تھے کبھی تہجد کی نماز میں ایک ہی آیت بار بار پڑھتے رہتے حتی کہ سویرا ہوجاتا،محمد ابن منکدر فرماتے ہیں کہ ایک رات تمیم دارمی کی آنکھ نہ کھلی اورتہجد قضاء ہوگئی تو اس کے کفارہ میں سال بھر رات کو سوئے ہی نہیں،آپ نے نماز میں پہننے کے لیے ایک ہزار درہم کا جوڑا خریدا تھا،آپ نے ہی سب سے پہلے مسجد نبوی میں چراغ جلایا، آپ ہی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال اور جساسہ کی روایت اپنے خطبہ میں بیان فرمائی،آپ مدینہ منورہ میں رہے،شہادت حضرت عثمان کے بعد شام چلے گئے،وہاں ہی وفات پائی،دار ابن ہانی کی اولاد میں ہیں اسی لیے آپ کو داری کہا جاتا ہے۔(اکمال،اشعہ،مرقات)
۲؎ آیا وہ مسلمان کرنے والا اس نو مسلم کا مولٰی ہوگا یا نہیں اور اس کے مال کی میراث پائے گا یا نہیں۔
۳؎ یعنی وارث ہے کہ اگر اس نو مسلم کا کوئی عزیز رشتہ دار نہ ہو تو اس کی میراث اسے ملے گی۔اس حدیث کی بنا پر حضرت عمر ابن عبد العزیز،سعید ابن مسیب وغیرہم مسلمان کرنے والے کو نو مسلم کا آخری وارث مانتے ہیں جیسے غلام کا وارث آزاد کرنے والا مولیٰ،مگر باقی تمام علماء اسے وارث نہیں مانتے،وہ فرماتے ہیں کہ حدیث اس وقت کی ہے جب اسلام اور نصرت و مدد کی بناء پر میراث ملتی تھی کہ مہاجر کا وارث انصاری ہوتا تھا اور انصاری کا مہاجر،پھر آیات میراث سے یہ وارثت منسوخ ہوگئی۔یا یہاں اَولٰی کے معنی وارث نہیں بلکہ مددگار ہیں کہ مسلمان کرنے والا اس نو مسلم کی زندگی میں ہر طرح مدد کرے اور بعد موت اس کی نماز اور دفن وغیرہ کا انتظام کرے، اس صورت میں یہ حدیث محکم ہے۔(لمعات و مرقات و اشعہ)
|
3065 -[25] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلَّا غُلَامًا كَانَ أَعْتَقَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَهُ أَحَدٌ؟» قَالُوا: لَا إِلَّا غُلَامٌ لَهُ كَانَ أَعْتَقَهُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ لَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ایک شخص مر گیا اور اس نے سوا اس غلام کے جسے آزاد کیا تھا اور کوئی وارث نہ چھوڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کا کوئی ہے لوگوں نے کہا نہیں سوا ایک غلام کے جسے اس نے آزاد کیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی میراث اس کے غلام کے لیے مخصوص کردی ۱؎ (ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ) |
۱؎ اس حدیث کی بناء پرحضرت شریح،طاؤس وغیرہم نے فرمایا کہ جیسے آزادکردہ غلام کا وارث مولٰی ہوتا ہے اگر اس کا اوپر کا وارث نہ ہو ایسے ہی مولٰی کا وارث یہ غلام ہوگا،مگر جمہور علماء فرماتے ہیں کہ غلام مولٰی کا وارث نہیں اور یہ حدیث ایسی ہی ہے جیسے حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم نے گاؤں کے آدمیوں کو لاوارث کی میراث عطا فرمائی تھی کیونکہ یہ مال بیت المال کا تھا اور اس کابھی بیت المال میں حق ہے، اس بناء پر اسے یہ مال دیا گیا۔(مرقاۃ،لمعات)
|
3066 -[26] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَرِثُ الْوَلَاءَ مَنْ يَرِثُ الْمَالَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ |
روایت ہے حضرت عمرو بن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ولاء کا وارث وہ ہی عصبہ ہوگا جو مال کا وارث ہوگا ۱؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسنادقوی نہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع