30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۸؎ یعنی اس چھٹے حصے میں تو بھی شریک ہے کہ آدھا تیرا آدھا نانی کا۔
۹؎ یہ جملہ گزشتہ مضمون کا بیان ہے،جمہور صحابہ اور قریبًا تمام فقہاء و علماء کا یہ ہی مذہب ہے کہ اگر نانی یا دادی اکیلی ہو تو پورا چھٹا حصہ اسے ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو یہ ہی چھٹا حصہ دونوں میں آدھا آدھا مگر حضرت عبداﷲ ابن عباس فرماتے ہیں کہ ماں کے نہ ہونے پر نانی ماں کی جگہ ہوگی کہ اگر میت کے اولاد بھائی بہن نہ ہوں تو نانی کو تہائی اور اگر ہوں تو پورا چھٹا حصہ،شاید یہ حدیث انہیں پہنچی نہیں۔
|
3062 -[22] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ فِي الْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا: أَنَّهَا أَوَّلُ جَدَّةٍ أَطْعَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُدُسًا مَعَ ابْنِهَا وَابْنُهَا حَيٌّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ ضَعَّفَهُ |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ دادی کے متعلق جو اپنے بیٹے کے ساتھ ہو فرماتے ہیں کہ یہ پہلی وہ دادی ہے جسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے بیٹے کے ساتھ جب کہ بیٹا زندہ ہو چھٹا حصہ دیا ۱؎ (ترمذی،دارمی)ترمذی نے اس حدیث کو ضعیف بتایا۔ |
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ دادی باپ کے ہوتے بھی میراث پائے گی باپ کی وجہ سے محروم نہ ہوگی،یہ ہی چند صحابہ اور بعض فقہاء کا مذہب ہے۔عام صحابہ و علماء فرماتے ہیں کہ باپ کے ہوتے دادی محروم ہے،یہ حدیث اولًا تو ضعیف ہے،اگر صحیح بھی ہو تو حضور انور کا یہ فرمان و عطیہ بطورمیراث نہ تھا بلکہ بغیر توارث ویسے ہی عطا فرمایا جیسا کہ حکم قرآن ہے کہ اگر تقسیم میراث کے وقت بعض محروم قرابت دار موجود ہوں تو انہیں کو دے دو،فرمایا:"وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ اُولُوا الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیۡنُ فَارْزُقُوۡہُمۡ"یا میت کا باپ کافر تھا یا غلام کہ میراث کا مستحق نہ تھا اور محروم وارث دوسرے کو محروم نہیں کرتا۔(مرقات و لمعات و اشعہ)
|
3063 -[23] وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ: «أَنْ ورث امْرَأَة أَشْيَم الضبابِي مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ:هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح |
روایت ہے حضرت ضحاک ابن سفیان سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تحریر فرمایا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو ان کے خاوند کی دیت سے ورثہ دو ۲؎(ترمذی، ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے۔ |
۱؎ آپ ضحاک ابن سفیان عامری کلابی ہیں،بڑے بہادر شجاع تھے،آپ اکیلے کو سو۱۰۰ پہلوانوں کے برابر سمجھا جاتا تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی حفاظت کے لیے آپ سے قریب تلوار لیے کھڑے رہتے تھے،آپ کو حضورا نور نے اپنی قوم بنی کلاب کا والی بنایا تھا۔
۲؎ اشیم ضبابی صحابی تھے،ضباب ایک قلعہ کا نام ہے ادھر آپ کی نسبت ہے یہ خطاءً قتل کئے گئے تھے،قاتل پر دیت یعنی خون بہا واجب ہوا تھا،حضور انور نے حضرت ضحاک کو جو وہاں کے والی تھے یہ لکھا کہ ان کی دیت وارثوں میں تقسیم کرو،چونکہ زوجہ بھی وارث ہے اس لیے اسے بھی بقدر میراث دیت سے حصہ دو۔اس حدیث کی بناء پر جمہور علماء فرماتے ہیں کہ دیت کا مال پہلے تو مقتول کی ملک بنتا ہے،پھر مقتول کے دیگر مالوں کی طرح اس کے وارثوں کو بقدر حصہ ملتا ہے مگر حضرت علی کا قول یہ ہے کہ دیت سے اخیافی بھائی بہن، خاوند اور کسی عورت کو حصہ نہیں مل سکتا،غالبًا آپ کو یہ حدیث پہنچی نہیں۔
|
3064 -[24] وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا السُّنَةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ: «هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ |
روایت ہے حضرت تمیم دارمی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ اس مشرک آدمی کے متعلق شرعی طریقہ کیا ہے جو مسلمانوں میں سے کسی کے ہاتھ پر ایمان لائے ۲؎ فرمایا وہ مسلمان اس مشرک کا زندگی اور موت میں والی ہے۳؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع