30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3061 -[21] وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ لَهَا: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ وَمَا لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ فَسَأَلَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الله عَنهُ هَل مَعَك غَيره؟ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغيرَة فأنفذه لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَتِ الْجدّة الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ: هُوَ ذَلِك السُّدس فَإِن اجْتمعَا فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت قبیصہ ابن ذویب سے ۱؎ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر کی خدمت میں نانی حاضر ہوئیں آپ سے اپنی میراث مانگتی تھیں ۲؎ تو فرمایا نہ اﷲ کی کتاب میں تیرے لیے کچھ ہے اور نہ سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میں تجھے کچھ ملے گا ۳؎ ابھی تو لوٹ جا حتی کہ میں لوگوں سے پوچھ گچھ کرلوں۴؎ چنانچہ آپ نے پوچھا تو حضرت مغیرہ ابن شعبہ نے عرض کیا میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر تھا آپ نے دادی کو چھٹا حصہ دیا تھا ابوبکر صدیق نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے ۵؎ تب محمد ابن مسلمہ نے ویسا ہی کہا جو مغیرہ نے کہا تھا چنانچہ جناب صدیق نے دادی کے لیے چھٹا حصہ جاری کردیا ۶؎ پھر دوسری جانب کی دادی حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۷؎ اپنی میراث آپ سے مانگتی تھیں تو فرمایا دادی کی میراث یہ ہی چھٹا حصہ ہے ۸؎ اگر تم دونوں(دادی،نانی)جمع ہوجاؤ تو وہ تم دونوں میں ہوگا اور تم میں سے جو اکیلی ہو تو وہ اس کا ہوگا۹؎(مالک،احمد، ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ قبیصہ بروزن کریمہ ہے،اور ذویب ذال کے پیش واؤ کے کسرہ سے،آپ کو ابن عبدالبر نے تو صحابی مانا ہے اور ۱ ھ میں پیدائش ثابت کی ہے،دوسرے محدثین انہیں تابعی مانتے ہیں،آپ فقہاء مدینہ سے ہیں۔چنانچہ سعید ابن مسیب،عروہ ابن زبیر،عبدالملک ابن مروان،قبیصہ ابن ذویب یہ چار حضرات فقہاء مدینہ سے مانے جاتے تھے، ۸۶ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔(اشعہ،مرقات،اکمال)
۲؎ اس نے عرض کیا کہ میرا ولد بنت یعنی نواسا فوت ہوگیا ہے،میرا حصہ میراث کا مجھے دلوایا جائے،یہاں جدۃ بمعنی نانی ہے جیساکہ دوسری روایات سے ثابت ہے۔(مرقات)
۳؎ یعنی جہاں تک میرا علم ہے۔حدیث شریف میں بھی دادی نانی کا حصہ کچھ نہیں،یہاں نفی اپنے علم کے اعتبار سے ہے۔
۴؎ اس زمانہ میں کسی کو مسئلہ بتانا آسان نہ تھا،ایک مسئلہ کے لیے مہینوں حدیث تلاش کرنا پڑتی ہے۔اﷲ تعالٰی فقہاء کرام کا بھلا کرے کہ وہ حضرات ہمارے لیے علم فقہ کو پانی بنا گئے کہ کوئی مسئلہ ہو کتاب،باب،فصل نکالو اور بتادو،اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے،جتنی خدمت علماء اسلام نے کی اتنی خدمت کسی دین کے عالموں نے اپنے دین کی نہ کی۔
۵؎ گواہ مانگنا احتیاطًا تھا تاکہ لوگ حدیث بیان کرنے پر دلیر نہ ہو جائیں،نیز اس حدیث سے حقوق العباد متعلق تھے،اس وجوہ سے یہ احتیاط برتی ورنہ صحابہ سارے عادل ہیں ہر ایک کی روایت معتبر ہے۔
۶؎ یعنی ورثاء کو حکم دے دیا کہ دادی کو چھٹا حصہ دیں،چونکہ حکم فرمانے والے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تھے اس پر عمل کرانے والے ابوبکر صدیق اس لیے یہ عبارت استعمال ہوئی،یوں ہی بادشادہ اسلام حضور انور کے احکام جاری کرنے والا ہے،حاکم اﷲ رسول ہیں۔
۷؎ یا تو پہلے نانی آئی تھی اب دادی آئی یا اس کے برعکس،اول معنی زیادہ قوی ہیں جیساکہ بعض روایات میں ہے کہ پھر میت کے باپ کی ماں آئی اور اس نے حضرت عمر کی خدمت میں عرض کیا کہ بمقابلہ نانی کے میرا حق میراث میں زیادہ ہے کہ اگر میں مرجاتی تو میرا یہ پوتا وارث ہوتا،اگر نانی مرتی تو اس کا یہ نواسہ وارث نہ ہوتا۔جب وہ مرحوم میرا وارث ہوتا ہے نہ کہ نانی کا تو چاہیے کہ میں ہی اس کی وارث ہوں نہ کہ نانی لہذا مجھے میراث واپس دلوائی جائے۔ (مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع