30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ خلاصہ جواب یہ ہے کہ ازروئے قرآن کریم بیٹوں کا حصہ دو تہائی ہے،یہاں لڑکی نے آدھا لے لیا کہ اس کی قرابت میت سے بمقابلہ پوتی کے قوی ہے،اب چھٹا حصہ بچا کیونکہ آدھا چھٹے سے مل کر دو تہائی ہوجاتا ہے وہ پوتی کو دے دیا،یہ دونوں ذی فرض تھیں،بہن عصبہ ہے اس کے لیے تہائی بچا ہے وہ اسے دے دو۔مال کے چھ حصے کرکے تین بیٹی کو دو،ایک پوتی کو،باقی دو بچے وہ عصبۃً بہن کو دے دو۔حضور فرماتے ہیں"اجعلو الاخوات مع البنات عصبۃً" بیٹیوں کے ساتھ بہنوں کو عصبہ بناؤ،یہ ہی جمہور علماء کا قول ہے مگر حضرت ابن عباس بیٹی کی موجودگی میں بہن کو محروم کرتے ہیں،وہ فرماتے ہیں کہ رب تعالٰی نے مذکورہ آیت میں بہن کی میراث کے لیے ولد نہ ہونے کی قید لگائی،ولد سے مراد مطلقًا اولاد ہے بیٹا ہو یا بیٹی،حالانکہ وہاں ولد سے مراد صرف بیٹا ہے اس لیے حضرت عمر سے آپ کا مشہور مناظرہ ہوا اور حضرت عمر نے یہ ہی جواب دیا۔(مرقات)
۵؎ یعنی آئندہ جب تک حضرت عبداﷲ ابن مسعود زندہ ہیں مجھ سے مسئلہ نہ پوچھو،وہ مجھ سے بڑے عالم ہیں ان سے ہی پوچھا کرو۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ عالم کو چاہیے کہ اپنی غلطی معلوم ہونے پر ضد نہ کرے فورًا رجوع کرلے،رجوع میں اپنی توہین نہ جانے۔دوسرے یہ کہ بڑے عالم کے ہوتے ماتحتوں کی تقلید نہ کرے،یہ حدیث تقلید شخصی کی اصل ہے کہ ایک عالم مجتہد کا ہوکر رہے ہر جگہ نہ بھٹکے۔
|
3060 -[20] وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِن ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ؟ قَالَ: «لَكَ السُّدُسُ» فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ: «لَكَ سُدُسٌ آخَرُ» فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ: «إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ |
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا میرا بیٹا مرگیا ہے تو اس کی میراث میں میرا کتنا ہے ۱؎ فرمایا تیرا چھٹا حصہ ہے جب اس نے پیٹھ پھیری تو اسے بلایا فرمایا تیرے لیے دوسرا چھٹا بھی ہے ۲؎ پھر جب پیٹھ پھیری تو اس نے بتایا فرمایا دوسرا چھٹا عصبۃً ہے۳؎ (احمد،ترمذی،ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے۔ |
۱؎ اس مرحوم کی دو بیٹیاں تھیں،ایک باپ دونوں بیٹیوں کا دو تہائی جو سائل کو معلوم نہ تھا باپ کے حصے کی خبر نہ تھی اس لیے اس نے صرف باپ کا حصہ پوچھا۔
۲؎ خلاصہ یہ ہے کہ تیرے بیٹے کے متروکہ مال کے چھ حصے ہوں گے،چار تو دو بیٹیوں کے یعنی دو تہائی اور ایک تیرا یعنی چھٹا حصہ تو ذی فرض ہے،تیرا حق چھٹا حصہ ہے،باقی بچا ایک وہ بھی تجھے ہی ملے گا مگر عصبۃً۔معلوم ہوا کہ بیٹیوں کے ہوتے باپ ذی فرض بھی ہے اور عصبہ بھی،یہ ہی تمام علماء کا مذہب ہے۔
۳؎ یعنی ذی فرض ہونے کی حیثیت سے ہے تو تیرا حصہ چھٹا حصہ ہی تھا،اب جو دوبارہ تجھے چھٹا حصہ اور دیا گیا وہ عصبہ ہونے کی حیثیت سے ہے کہ تو عصبہ بھی ہے کہ بچا ہوا بھی تو ہی پائے گا۔
|
3061 -[21] وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ لَهَا: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ وَمَا لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ فَسَأَلَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ الله عَنهُ هَل مَعَك غَيره؟ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغيرَة فأنفذه لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَتِ الْجدّة الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ: هُوَ ذَلِك السُّدس فَإِن اجْتمعَا فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت قبیصہ ابن ذویب سے ۱؎ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر کی خدمت میں نانی حاضر ہوئیں آپ سے اپنی میراث مانگتی تھیں ۲؎ تو فرمایا نہ اﷲ کی کتاب میں تیرے لیے کچھ ہے اور نہ سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میں تجھے کچھ ملے گا ۳؎ ابھی تو لوٹ جا حتی کہ میں لوگوں سے پوچھ گچھ کرلوں۴؎ چنانچہ آپ نے پوچھا تو حضرت مغیرہ ابن شعبہ نے عرض کیا میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر تھا آپ نے دادی کو چھٹا حصہ دیا تھا ابوبکر صدیق نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے ۵؎ تب محمد ابن مسلمہ نے ویسا ہی کہا جو مغیرہ نے کہا تھا چنانچہ جناب صدیق نے دادی کے لیے چھٹا حصہ جاری کردیا ۶؎ پھر دوسری جانب کی دادی حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۷؎ اپنی میراث آپ سے مانگتی تھیں تو فرمایا دادی کی میراث یہ ہی چھٹا حصہ ہے ۸؎ اگر تم دونوں(دادی،نانی)جمع ہوجاؤ تو وہ تم دونوں میں ہوگا اور تم میں سے جو اکیلی ہو تو وہ اس کا ہوگا۹؎(مالک،احمد، ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع