دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

تمام صحابہ اور علمائے اسلام کا فرمان ہے کہ دو لڑکیاں بھی دو تہائی پائیں گی یعنی میراث میں دو کی تعداد جمع ہے اور یہ حدیث اس آیت کریمہ کی شرح ہے،قرآن کریم نے اتنی بڑی عبارت فرمائی،یہ نہ فرمادیا کہ اگر لڑکیاں دو ہوں تاکہ کوئی یہ وہم نہ کرے کہ دو لڑکیوں کو تہائی اور زیادہ کو تہائی اور زیادہ کو اس سے زیادہ۔غالبًا ابن عباس کو یہ حدیث پہنچی نہیں جب ایک بیٹی میت کے بیٹے کے ساتھ تہائی پاتی ہے تو بیٹی کے ساتھ بدرجہ اولٰی تہائی پائے گی۔(مرقات)

3059 -[19]

وَعَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: سُئِلَ أَبُو مُوسَى عَنِ ابْنَةٍ وَبِنْتِ ابْنٍ وَأُخْتٍ فَقَالَ: للْبِنْت النّصْف وَللْأُخْت النّصْف وائت ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنِي فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَأُخْبِرَ بقول أبي مُوسَى فَقَالَ: لقد ضللت إِذن وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْبِنْتِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ» فَأَتَيْنَا أَبَا مُوسَى فَأَخْبَرْنَاهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الحبر فِيكُم. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ہزیل ابن شرحبیل سے فرماتے ہیں کہ جناب ابو موسیٰ سے ایک بیٹی پوتی اور بہن کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا بیٹی کا آدھا اور بہن کا آدھا ہے ۱؎ اور تم حضرت ابن مسعود کے پاس جاؤ وہ بھی ہماری ہی مطابقت کریں گے۲؎ چنانچہ حضرت ابن مسعود سے مسئلہ پوچھا گیا اور حضرت موسیٰ کی بات کی خبر دی گئی وہ بولے تب تو بہک جاؤں گا اور راہ پانے والوں سے نہ ہوں گا ۳؎ میں تو اس میں وہ فیصلہ کروں گاجو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا تھا،بیٹی کا آدھا ہے اور پوتی کا چھٹا حصہ دو تہائی پوری کرنے والے کو اور جو باقی بچے وہ بہن کا ۴؎ پھر ہم ابو موسیٰ کے پاس آئے تو ہم نے انہیں حضرت ابن مسعود کے فیصلہ کی خبر دی تو آپ بولے جب تک یہ علّامہ تم میں رہے مجھ سے نہ پوچھو ۵؎ (بخاری)

۱؎ سوال یہ تھا کہ ایک شخص فوت ہوا اس نے ایک بیٹی،ایک پوتی،ایک بہن چھوڑی تو کسے کتنا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا بیٹی کو آدھا،بہن کو آدھا اور پوتی محروم ہے،آپ نے ان دو آیتوں پر نظر فرمائی کہ بیٹی کے متعلق ارشاد ہوا"وَ اِنۡ کَانَتْ وٰحِدَۃً فَلَہَا النِّصْفُ"اگر بیٹی اکیلی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے اور بہن کے متعلق ارشاد ہوا ہے"اِنِ امْرُؤٌا ہَلَکَ لَیۡسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَہٗۤ اُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَ"کہ اگر کوئی مرگیا اور اس کے اولاد نہیں ہے بہن ہے تو بہن کو آدھا ملے گا۔آپ نے ولد سے مراد صلبی اولاد لی،حالانکہ ولد میں پوتی بھی داخل ہے اگر بیٹا بیٹی،پوتا پوتی نہ ہو تو بہن کو آدھا ملتا ہے،یہ ہوئی اجتہادی غلطی یا انہوں نے خیال کیا کہ وہاں آیت میں ولد سے مراد مذکر اولاد ہے۔

۲؎ یعنی میرے بتائے ہوئے مسئلہ کی تصدیق حضرت ابن مسعود سے بھی کرالو ان شاءاﷲ وہ بھی یہ ہی فتویٰ دیں گے،یہ حدیث فتویٰ کی تصدیق کرانے کی اصل ہے۔

۳؎ یعنی ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے مسئلہ غلط بتایا وہ تو اجتہادی غلطی کی وجہ سے معاف کردیئے جائیں گے،مجھے اصل مسئلہ معلوم ہے اگر میں جانتے ہوئے غلط مسئلہ میں ان کی تائید کردوں تو گمراہ ہوجاؤں گا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر تو حضرت ابو موسیٰ اشعری گمراہ ہوگئے ہوں گے کہ انہوں نے مسئلہ غلط بتایا کیونکہ وہ خطاء اجتہادی کی بنا پر مسئلہ غلط بتاگئے،خطاء اجتہادی پر پکڑ نہیں جیسا کہ قرآن کریم نے حضرت داؤد علیہ السلام کی ایک غلطی اجتہادی کا ذکر تو فرمایا مگر عتاب نہ فرمایا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن