30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ شیخ نےاشعہ فرمایا کہ کُبرا کاف کے پیش ب کے جزم سے،وہ شخص جو قوم کے مورث میں میت سے ملتا ہو ایسے شخص کو میراث سے کچھ نہیں ملتا،حضور انور کا یہ دلوانا بطور میراث نہ تھا بلکہ بیت المال کے مصرف ہونے کی حیثیت سے تھا کہ یہ مال ہے تو بیت المال کا اور چونکہ بیت المال کا مال مسلمانوں پر خرچ ہوتا ہے اور یہ شخص بھی مسلمان ہے لہذا ہم سلطان اسلام کی حیثیت سے حکم دیتے ہیں کہ اسے دے دو۔علامہ شامی نے فرمایا کہ دادا کے چچا اور اس چچا کی اولاد تک توارث ہوتا ہے جو اس سے اوپر میت سے ملے وہ وارث نہیں ورنہ سارے ہی انسان آدم علیہ السلام میں مل جاتے ہیں،سب ایک دوسرے کے وارث ہونا چاہئیں،انہی شامی نے یہ بھی فرمایا کہ اب فی زمانہ حتی الامکان بیت المال میں کسی کا ترکہ نہ بھیجو کہ وہ عمومًا ظالموں کے قبضہ میں ہوتا ہے بلکہ اب جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کے بستی والوں کو دے دو،مسلمانوں میں تقسیم کردو حتی کہ غیر روی وارثوں پر رد کردو مگر بیت المال سے مسلمانوں کا متروکہ مال بچاؤ۔
۴؎ یہاں بھی اکبر رجل میں دو احتمال ہیں:یا اکبر سے مراد بڑے قرب والا یا گاؤں کا بڑا آدمی چودھری نمبردار یعنی اس بستی میں جو اس مرنے والے سے بڑی قرب کی قرابت رکھتاہو اسے دو یا جو بڑا ہواسے میراث دو کہ وہ اپنے انتظام سے لوگوں میں تقسیم کرے خود بھی لے دوسروں کو بھی دے کھائے بھی کھلائے بھی۔
|
3057 -[17] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّكُمْ تقرؤون هَذِهِ الْآيَةَ: (مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَو دين)وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالدّينِ قبل الْوَصِيَّةِ وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ الرَّجُلُ يَرِثُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيِّ: قَالَ: «الْإِخْوَةُ مِنَ الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ. . .» إِلَى آخِره |
روایت ہے حضرت علی سے فرمایا تم یہ آیت پڑھتے ہو کہ تمہاری کی ہوئی وصیت کے یا قرض کے بعد،حالانکہ رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم نے قرض کا وصیت سے پہلے حکم دیا ہے ۱؎ اور حکم دیا ہے کہ ماں والی اولاد وارث ہوگی نہ کہ علاتی اولاد ۲؎ آدمی اپنے حقیقی بھائی کا وارث ہوگا نہ کہ علاتی بھائی گا۳؎ (ترمذی،ابن ماجہ)اور دارمی کی روایت میں یوں ہے کہ ماں جائے بھائی بہن آپس میں وارث ہوں گے نہ کہ علاتی بھائی،الخ ۴؎ |
۱؎ خلاصہ یہ ہے کہ آیت کریمہ میں وصیۃ کا ذکر قرض سے پہلے فرمایا گیا کہ ارشاد باری میں پہلے وصیت ہے پھر قرض مگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ادائے قرض کو وصیت پر مقدم فرمایا کہ تجہیز و تکفین کے بعد میت کا قرض ادا کرو پھر بعد ادائے قرض تہائی مال سے وصیت جاری کرو،پھر میراث تقسیم کرو،حضور انور کا یہ عمل قرآن کریم کے مخالف نہیں بلکہ اس کی تفسیر ہے جس سے بتادیا گیا کہ قرض ذکر میں پیچھے ہے مگر عمل میں پہلے،چونکہ وارثوں پر وصیت پوری کرنا شاق گزرتا ہے،قرض شوق سے ادا کر دیتے ہیں اس لیے اہتمامًا پہلے وصیت کا ذکر فرمایا۔
۲؎ اعیان جمع عین کی ہے بمعنی ذات اور بنی ام سے مراد اخیافی اولاد نہیں بلکہ حقیقی بھائی مراد ہیں یعنی جو مال میں بھی شریک ہوں۔مطلب یہ ہے کہ جس میت سے سگے بھائی بھی ہوں اور باپ شریکے بھی تو سگے بھائی میراث پائیں گے،باپ شریکے نہ پائیں گے کہ سگوں کو قوت قرابت حاصل ہے اسی لیے آپ نے اخیافی نہ فرمایا بلکہ اعیان بنی ام فرمایا اتنی دراز عبارت۔(مرقات و لمعات و اشعہ وغیرہ)لہذا قرآن شریف میں جو لفظ اخوۃ ارشاد ہوا اس سے دھوکا نہ کھائیے اور اس سے سارے بھائی نہ سمجھ لیجئے سگے ہوں یا سوتیلے۔
۳؎ یہ جملہ گزشتہ کلام کی شرح ہے۔لِاَبِیْہِ وَاُمِّہٖ فرماکر بتادیا کہ وہاں بنی الام سے مراد ماں میں بھی شریک تھے نہ کہ ماں میں ہی شریک،دیکھو حضرت ہارون نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا اِبْنَ اُمِّ اے میرے ماں جائے حالانکہ آپ حضرت ہارون کے سگے بھائی تھے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع