دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

3054 -[14]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ عَاهَرَ بِحُرَّةٍ أَوْ أَمَةٍ فَالْوَلَد ولد زنى لَا يَرث وَلَا يُورث» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص آزاد عورت یا لونڈی سے زناکرے تو بچہ حرام کا ہے کہ نہ وہ اس کا وارث ہو اور نہ یہ اس کا وارث ۱؎(ترمذی)

۱؎ یعنی حرامی بچے کی وارث صرف ماں اور ماں کے قرابت دار ہوں گے،نانی،خالہ،ماموں وغیرہ اور وہ بچہ ان لوگوں کا وارث ہوگا مگر یہ زانی باپ اور اس کے عزیز نہ تو حرامی بچے کے وارث نہ وہ بچہ ان کا وارث کہ یہ بچہ نسبًا اس باپ سے ہے ہی نہیں صرف ماں سے ہے، یہاں باپ اورباپ  کے عزیزوں کی میراث کی نفی ہے اور ماں کی میراث کا ثبوت پچھلی حدیث میں گزر گیا کہ لعان والے بچہ کی وارث ماں ہے،لعان اور زنا کے بچوں کا ایک ہی حکم ہے کہ ان کا نسب صرف ماں سے ہے۔

3055 -[15]

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ مَوْلًى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ حَمِيمًا وَلَا وَلَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک غلام فوت ہوگیا اس نے کچھ مال چھوڑا ۱؎ اور نہ کوئی قرابت دار چھوڑا نہ اولاد تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کی میراث اس کے کسی بستی والے کو دے دو ۲؎ (ابوداؤد،ترمذی)

۱؎ اس غلام کا نام معلوم نہ ہوسکا کہ کون صاحب تھے۔

۲؎ حضور انور نے اس مرحوم غلام کا مال خود نہ لیا حالانکہ ایسے موقعہ پر آزاد کرنے والا مولٰی میراث پاتا ہے کیونکہ حضور انور نبی ہیں اور حضرات انبیاء نہ کسی کے وارث ہوں نہ ان کا کوئی وارث ہو جیسا کہ دوسری احادیث میں صراحۃً ارشاد ہے۔اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ اس کا مال بیت المال کا ہے اور بیت المال تمام مسلمانوں کا سلطان اسلام کا حق ہوتا ہے کہ بیت المال کا مال جس مسلمان پر چاہے خرچ کرے۔اس حیثیت سے حکم دیتے ہیں کہ اس کے کسی بستی والے کو دے دو کہ وہ بھی تو مسلمان ہی ہوگا جس کا بیت المال میں حق ہے۔لہذا اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایسے لاوارث کا متروکہ مال اس کے کسی بستی والے کو دے دیا جائے بلکہ مطلب وہ ہی ہے جو عرض کیا گیا۔ (ازلمعات و مرقات)

3056 -[16]

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيرَاثِهِ فَقَالَ: «الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا أَوْ ذَا رَحِمٍ» فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ وَارِثًا وَلَا ذَا رَحِمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أعْطوا الْكُبْرَ مِنْ خُزَاعَةَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: قَالَ: «انْظُرُوا أَكْبَرَ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَة»

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ بنی خزاعہ ۱؎ کا ایک شخص فوت ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں اس کی میراث لائی گئی تو فرمایا اس کا کوئی وارث یا ذی رحم ڈھونڈو تو نہ اس کا کوئی وارث پایا اور نہ ذی رحم ۲؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ میراث خزاعہ کے کسی قریبی کو دے دو ۳؎(ابو داؤد)اور اس کی ایک روایت میں یوں ہے فرمایا خزاعہ کے کسی بڑے آدمی کو دیکھو ۴؎

۱؎ خزاعہ ازد کا بڑا مشہور قبیلہ ہے۔

۲؎  یہاں وارث سے مراد ذی فرض یا عصبہ وارث ہے جیساکہ ذی رحم کے مقابلہ سے معلوم ہورہا ہے،اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ذی رحم کو میراث مل سکتی ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن