30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی جس میت کا ذی فرض و عصبہ نہ ہو اس کے وارث ماموں،خالہ وغیرہ تمام ذی رحم بالترتیب ہیں اور اگر غیر ذی فرض ہے جیسے بیوی یا خاوند تو بھی ذی رحم وارثوں کو میراث ملے گی۔خیال رہے کہ ذی رحم کی وراثت کے امام شافعی و امام مالک منکر ہیں،ان کے ہاں ذی فرض و عصبہ کے نہ ہونے پر مال بیت المال میں جائے گا مگر ہمارے ہاں ذی رحم بھی وارث ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاُوْلُوا الۡاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیۡ کِتٰبِ اللہِ"اس آیت نے عقدمواخات کی میراث کو منسوخ فرما کر رشتہ داروں کو وارث بنایا اور ان میں ذی رحم وارثوں کو لے لیا،نیز سہل ابن حنیف جب قتل کئے گئے تو ان کا ایک ماموں ہی تھا اور کوئی عزیز نہ تھا،حضرت ابو عبیدہ ابن جراح کا انتقال ہوا تو حضور انور نے حضرت قیس ابن عاصم سے فرمایا کیا تم میں کوئی ان کا عزیز قریبی بھی ہے،انہوں نے عرض کیا وہ مسافر تھے،ان کا عزیز سوائے ابولبابہ ابن عبدالمنذر کے جوان کے بھانجے ہیں اور کوئی نہیں،حضور انور نے انہیں کو وارث بنایا۔جن روایات میں ہے کہ پھوپھی خالہ وارث نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ذی فرض یا عصبہ کے ہوتے ہوئے یہ لوگ وارث نہیں لہذا مذہب حنفی بہت قوی ہے۔(مرقات)
۵؎ یعنی بھانجہ کی دیت ماموں دے گا اور اگر بھانجہ قید ہوجائے تو ماموں فدیہ دے کر چھڑائے گا۔
۶؎ یعنی لاوارث کی دیت بیت المال سے دی جائے گی اور اس کا متروکہ مال بیت المال میں داخل ہوگا جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا۔دیت اور فدیہ کے مسائل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے اور ہم ان شاءاﷲ باب الدیت میں عرض کریں گے۔
|
3053 -[13] وَعَن وائلة بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَحُوزُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت واثلہ ابن اسقع سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک عورت تین میراثیں سمیٹتی ہے ۱؎ اپنے آزاد کردہ غلام کی اپنے پڑے پائے بچہ کی اور اپنے اس بچے کی جس پر اس نے لعان کیا ۲؎ (ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ اس طرح کہ یہ میراثیں مرد کو نہیں ملتیں صرف عورت کو ملتی ہیں۔
۲؎ عورت کے آزاد کردہ غلام کی دیت یا وراثت صرف عورت ہی کو ملے گی نہ کہ اس کے خاوند کو،پڑے ہوئے بچے کی میراث عورت کو ملنا منسوخ ہے یا یہ مطلب ہے کہ اگر اس بچہ کا اور کوئی وارث نہ ہو تو اجنبی لوگوں کے مقابل اس عورت کو اس کا مال دے دینا بہتر ہے۔حرام کا بچہ یوں ہی وہ بچہ جس کا باپ نے انکار کرکے اس پر لعان کرلیا ان دونوں کی میراث صرف ماں کو ملے گی کہ ان کا باپ توکوئی ہے ہی نہیں۔ خیال رہے کہ اسحاق ابن راھویہ فرماتے ہیں کہ لقیط یعنی پڑے ہوئے بچہ کا مال پانے والے کو ملے گا۔اس حدیث کی بنا پر مگر باقی تمام آئمہ اس کے انکاری ہیں،ان کے ہاں یہ جزء منسوخ ہے یا اس کا وہ مطلب ہے جو ابھی عرض کیا گیا۔(لمعات و مرقات)یہ حدیث قوی نہیں۔
|
3054 -[14] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ عَاهَرَ بِحُرَّةٍ أَوْ أَمَةٍ فَالْوَلَد ولد زنى لَا يَرث وَلَا يُورث» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص آزاد عورت یا لونڈی سے زناکرے تو بچہ حرام کا ہے کہ نہ وہ اس کا وارث ہو اور نہ یہ اس کا وارث ۱؎(ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع