30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3048 -[8] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قاتل وارث نہیں ہوتا ۱؎ (ترمذی،ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی اگر کوئی رشتہ دار اپنے عزیز کو قتل کردے تو قاتل اس عزیز کی میراث نہ پائے گا مگر اس قتل میں کچھ شرطیں ہیں:ایک یہ کہ قاتل عاقل بالغ ہو،بچہ یا مجنون دیوانگی میں قتل کردے تو وارث ہے۔دوسرے یہ کہ قتل ظلمًا ہو اپنی جان بچانے کے لیے یا قصاصًا یا حسدًا قتل کیا تو میراث سے محروم نہیں۔تیسرے یہ کہ قتل موجب قصاص یا کفارہ ہو،اگر ایسا قتل ہے جس میں نہ قصاص ہے نہ کفارہ تو وہ میراث سے محروم نہ کرے گا۔اس کی تفصیل ہماری کتاب "علم المیراث"میں ملاحظہ فرمائیے۔(از مرقات)
|
3049 -[9] وَعَنْ بُرَيْدَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لِلْجَدَّةِ السُّدُسَ إِذَا لَمْ تَكُنْ دونهَا أم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دادی کے لیے چھٹا حصہ مقرر فرمایا جب کہ اس کے اوپر ماں موجود نہ ہو ۲ ؎(ابوداؤد) |
۱؎ آپ بریدہ ابن حُصَیب اسلمی ہیں،غزوہ بدر سے پہلے اسلام لائے مگر بدر میں شریک نہ ہوسکے،بیعۃ الرضوان میں شریک تھے،مدینہ منورہ میں رہے،آخر میں بصرہ میں قیام رہا،پھر جہاد کرتے ہوئے خراسان پہنچے،وہاں ہی یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں ۶۲ھ مقام مرو میں وفات پائی،آپ سے بہت صحابہ نے روایات لی ہیں۔(مرقات)
۲؎ یعنی دادی،نانی کی میراث چھٹا حصہ ہے لیکن اگر میت کی ماں موجود ہے تو دادی بھی محروم اور نانی بھی کیونکہ ان دونوں کے لیے حاجب ہے۔حجب اور منع میں فرق یہ ہے کہ کسی عزیز کا دوسرے عزیز کو محروم کردینا حجب حرمان کہلاتا ہے اور اس کا حصہ کم کردینا حجب نقصان ہے،مگر خود وارث کی اپنی حالت کا اسے میراث سے محروم کردینا منع ہے۔جیسے کفر و غلام ہونا،قتل،مال دونوں قسم کی دادی نانی کے لیے حاجب حرمان ہے۔خیال رہے کہ دادی کا کل حصہ سدس یعنی چھٹا ہے،لہذا اگر میت کی دادی بھی ہے نانی بھی تو ان دونوں کو چھٹا حصہ ملے گا جسے وہ آپس میں تقسیم کرلیں گی۔چنانچہ حاکم نے حضرت عبادہ ابن صامت سے روایۃً فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے چھٹا حصہ دادی نانی میں تقسیم فرمایا اور دادی باپ سے بھی محروم ہوجاتی ہے مگر نانی صرف ماں سے محروم ہوگی۔اس کی تفصیل ہماری کتاب"علم المیراث"اور سراجی و شریفی میں ملاحظہ فرمایئے۔
|
3050 -[10] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ صُلِّيَ عَلَيْهِ وَورث» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه والدارمي |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب بچہ چیخے تو اس پر نماز پڑھی جائے اور اسے وارث بنایا جائے گا ۱؎ (ابن ماجہ،دارمی) |
۱؎ یعنی اگر بچہ زندہ پیدا ہو اور اس کی زندگی اس کے رونے یا چھینکنے یا حرکت کرنے سے معلوم ہوجائے پھر مرجائے تو اس کی تجہیز و تکفین بھی ہوگی،جنازہ بھی اور وہ وارث بھی ہوگا،مورث بھی۔اگر مرا ہوا پیدا ہو تو ان میں سے کوئی کام نہ ہوگا،اگر میت کی بیوی حاملہ ہے تو تقسیم میراث کے وقت حمل کا حصہ محفوظ رکھا جائے گا۔اگر بچہ زندہ پیدا ہوا تو یہ حصہ اس ہی کا ہوگا اور اگر مردہ پیدا ہوا تو یہ موقوف رکھا ہوا حصہ انہیں وارثوں میں تقسیم کردیا جائے گا جن کے حصے سے کاٹ لی گئی تھی۔میراث حمل کی تفصیل بحث "علم المیراث"میں ملاحظہ فرمایئے۔بعض آئمہ صرف بچہ کے چیخنے پر تو اسے میراث دیتے ہیں دوسری علامات حیات پر نہیں دیتے۔وہ اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع