30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ آپ عیاض ابن حمار ابن ناجیہ ابن عقال ہیں،تمیمی نجاشی ہیں،بصرہ کے رہنے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بڑے پرانے محبوب ساتھی تھے جو ہمیشہ حضور کو خوش کیا کرتے تھے،آپ سے خواجہ حسن بصری وغیرہ نے روایات لیں۔
۲؎ یعنی اٹھاتے وقت ہی کہہ دے کہ گواہ رہنا میں یہ چیز اس لیے اٹھا رہا ہوں کہ مالک کو پہنچادوں یہ حکم استحبابی ہے،بعض کے نزدیک وجوبی،اس میں بڑی حکمتیں ہیں۔اس اعلان کے بعد نفس میں خیانت کا خیال نہ پیدا ہوگا،اگر یہ اچانک فوت ہوجائیں تواس کے ورثاء اسے میراث نہ بناسکیں گے،مالک کچھ زیادتی کمی کا دعوی نہ کرسکے گا کہ میری چیز زیادہ تھی یا اچھی تھی تم نے کم یا خراب کردی۔(لمعات)
۳؎ یعنی نہ تو اٹھاتے وقت ہی جیب میں ڈالنے کی کوشش کرے اور نہ اس کے بعد اسے لاپتہ کردے،بعض نے فرمایا کہ کتم سے مراد لقطہ کا چھپانا اور غائب کرنے سے مراد ہے ملے ہوئے جانور کو بدنیتی سے اور جگہ بھیج دینا۔
۴؎ یعنی اگر تلاش کرنے پربھی مالک نہ ملے تو سمجھ لے کہ یہ روزی مجھے رب نے دی ہے۔غریب ہو تو استعمال کرے امیر ہو تو خیرات کردے۔
|
3040 -[8] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَصَا وَالسَّوْطِ وَالْحَبْلِ وَأَشْبَاهِهِ يَلْتَقِطُهُ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَذكر حَدِيث الْمِقْدَام بن معدي كرب: «أَلا لَا يحل» فِي «بَاب الِاعْتِصَام» |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہم کو لاٹھی،کوڑا،رسی اور ان جیسی چیزوں میں اجازت دی کہ کوئی پڑی ہوئی اٹھالے اس سے نفع اٹھائے ۱؎ (ابو داؤد)اور حضرت مقدام ابن معدیکرب کی حدیث کہ الا لا یحل باب الاعتصام میں ذکر کردی گئی ہے۔ |
۱؎ اس حدیث کی بنا پر علماء فرماتے ہیں کہ معمولی حقیر چیز جو پڑی ہوئی مل جائیں اور مالک انکی پرواہ بھی نہ کرتے ہوں اسے بغیر اعلان بھی استعمال کرنا جائز ہے۔ایک بار حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک کھجور پڑی ہوئی دیکھی تو فرمایا کہ اگر اس کے صدقہ ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم کھالیتے،کھیت اٹھاتے وقت بالیاں رہ جاتی ہیں یا گر جاتی ہیں ایسے ہی ترکاریاں،ایک آدھ گرا ہوا پھل وغیرہ جس کو مالک تلاش بھی نہیں کرتا یہ سب اسی میں داخل ہیں،لیکن اگر بعد میں ان چیزوں کا مالک آکر مطالبہ کرے تو اسے قیمت یامثل دینا پڑے گا۔حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ لقطہ کو پانے کا خوب استعمال کرتا رہے اور جب مالک مل جائے تو خراب کیا ہوا لقطہ اسے دیدے کہ یہ تو سخت ممنوع ہے۔لقطہ امانت ہوتا ہے اور امانت کا استعمال جائز نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع