30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اب حرام ہوگیا،رب تعالٰی فرماتا ہے:" لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ"ایک دوسرے کے مال ناجائز طریقوں سے کھاؤ اور جرمانہ بھی ناجائز طریقہ ہی ہے کہ ناحق کسی کا مال لینا حرام ہے۔
۴؎ چونکہ اس زمانہ میں مدینہ منورہ کے باغات دیواروں سے گھرے ہوئے نہ تھے ویسے ہی کُھلے تھے اس لیے درخت سے پھل توڑنے کو چوری قرار نہ دیا کیونکہ غیرمحفوظ مال کالینا چوری نہیں بلکہ جب پھل خرمن میں پہنچ کر محفوظ ہوجائیں انہیں لینے کا نام چوری ہوا، اگر با غ کے آس پاس چہاردیواری ہوتو پھل توڑنا بھی چوری ہوگا۔ ڈھال کی قیمت احناف کے ہاں دس درہم یعنی پونے تین روپے ہے اس سے کم قیمت مال کی چوری پر ہاتھ نہ کٹے گا۔دوسرے اماموں کے ہاں اس سے کم پر بھی کٹے گا ۔اس کی تحقیق ان شاءالله کتاب الحدود میں ہوگی۔
۵؎ یعنی عمرو ابن شعیب کے دادا نے بھی اونٹ وبکری کے لقطہ کے متعلق وہ ہی حدیث بیان کی جو دوسرے راویوں نے کی ہے یعنی گمی بکری کو پکڑ لو گما اونٹ نہ پکڑو۔
۶؎ میتاء اتوبا ابتان سے ہے،اصل میں مئتا ہمزہ سے تھا،ہمزہ ی ہوگیا یعنی کثرت سے آنے جانے کا راستہ،چوراہے کو بھی میتاءکہتے ہیں اور جادہ یعنی شاہراہ کو بھی۔
۷؎ خلاصہ یہ ہے کہ عام آبادی اور عام راستہ کی پڑی چیز لقطہ ہے کہ غالبًا کسی مسلمان کی ہے اس پر لقطے کے احکام جاری ہوں گے۔
۸؎ یعنی پرانا غیر آباد راستہ یا پرانی غیر آباد بستی جو کسی مسلمان کی ملک نہ ہو اور وہاں اسلامی آبادی نہ رہی ہو وہاں کی پڑی چیز۔ غالب یہ ہے کہ پرانے زمانے کے کفار کی ہے تو یہ دفینہ کے حکم میں ہے اور اس پر دفینہ کے احکام جاری ہوں گے کہ پانچواں حصہ حکومت اسلامیہ کا باقی پانے والے کا۔
|
3037 -[5] وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجَدَ دِينَارًا فَأتى بِهِ فَاطِمَة رَضِي الله عَنْهَا فَسَأَلَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا رِزْقُ اللَّهِ» فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأكل عَليّ وَفَاطِمَة رَضِي الله عَنْهُمَا فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَتِ امْرَأَةٌ تَنْشُدُ الدِّينَارَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ أَدِّ الدِّينَارَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ جناب علی ابن ابی طالب نے ایک اشرفی پڑی پائی تو اسے حضرت فاطمہ کے پاس لائے پھر اس کے متعلق رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ اﷲ کا دیا رزق ہے ۱؎ چنانچہ اس میں سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی کھایا اور حضرت علی و فاطمہ زہرا نے بھی کھایا ۲؎ پھر جب کچھ عرصہ گزرا تو ایک عورت اشرفی ڈھونڈتی آئی تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے علی اشرفی ادا کردو ۳؎(ابوداؤد) |
۱؎ لہذا تم اپنے خرچ میں لاؤ۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ تھوڑے لقطہ کا اعلان کرنا واجب نہیں کیونکہ حضرت علی کو حضور انور نے فورًا خرچ کرلینے کی اجازت دے دی،اعلان کا حکم نہ دیا۔فَاَتٰی اور فَسَألَ سے معلوم ہوا کہ لقطہ پاتے ہی بغیر تاخیر خرچ کرلینے کی اجازت دے دی مگر اس استدلال میں دو طرح گفتگو ہے: ایک یہ کہ دینار تھوڑا مال نہیں بلکہ مال کثیر ہے۔دوسرے یہ کہ ف کبھی تراخی پربھی استعمال ہوتی ہے لہذا کہا جاتا ہے نَکَحتُ فَوُلِدَ میں نے نکاح کیا تو اﷲ نے مجھے بچہ دیا،دیکھو بچہ نکاح سے نو ماہ بعد ہوتا ہے مگر یہاں ف بولا گیا،رب تعالٰی فرماتاہے: "اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّۃً"اﷲ تعالٰی آسمان سے پانی اتارتا ہے تو زمین ہری بھری ہوجاتی ہے،دیکھو بارش کے کچھ عرصہ بعد زمین ہری بھری ہوتی ہے نہ کہ فورًا مگر یہاں ف ارشاد ہوا۔معلوم ہوا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع