دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۱؎ آپ بصری ہیں،حضور انور کے زمانہ میں اسلام لائے مگر دیدار نہ کرسکے اس لیے تابعی ہیں،ا یک سوتیس۱۳۰ سال عمر ہوئی،ساٹھ سال سے زیادہ کفر میں گزاری،باقی اسلام میں    ۹۵ھ؁  میں وفات پائی۔

۲؎  حدیث اپنے ظاہر پر ہے،بہت چیزیں دنیا میں جنت سے آئی ہیں جن میں سے ایک خوشبو بھی ہے،اسے رد کرنا رب تعالٰی کی اعلٰی نعمت کی ناقدری ہے،مراد وہ ہی ہے جو پہلے عرض کی گئی کہ خوشبو کا ہدیہ واپس نہ کرو،یہ مطلب نہیں کہ خوشبو کا سودا ردّ نہ کرو ضرور خرید لو جیساکہ عام عطر فروش کہتے ہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3031 -[16]

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي وَقَالَتْ: أَشْهِدْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلَهُ إِخْوَةٌ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «أَفَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا على حق» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ بشیر کی بیوی نے کہا کہ میرے بیٹے کو اپنا غلام دو ۱؎ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو میرا گواہ بنالو ۲؎  چنانچہ وہ رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بولے کہ فلاں کی لڑکی نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے لڑکے کو اپنا غلام دے دوں اور کہا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو میرا گواہ بنالو۳؎ ارشاد ہوا کہ اس کے اور بھی بھائی ہیں بولے ہاں فرمایا کیا تم نے ان سب کو اس جیسا ہی عطیہ کیا ہے جو اسے دے رہے ہوعرض کیا نہیں فرمایا یہ درست نہیں ۴؎  اور میں صرف حق پر گواہ بنتا ہوں ۵؎(مسلم)

۱؎  بشیر کی بیوی کا نام عمرہ بنت رواحہ ہے اور ان کے بیٹے کا نام جو عمرہ کے بطن سے تھا نعمان ہے جیساکہ ابھی کچھ پہلے گزرا،بشیر کے اور اولاد دوسری بیوی سے تھی۔

۲؎ تاکہ آئندہ کوئی جھگڑا نہ ہو،پہلے عرض کیا گیا کہ یہ حدیث آج کل کی مروجہ رجسٹری کی اصل ہے کہ اہم چیزوں کی بیع کی رجسٹری کرائی جاتی ہے۔

۳؎ معلوم ہواکہ ہر جگہ دو گواہوں کی ضرورت نہیں کبھی ایک گواہ بھی کافی ہوتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْ اَہۡلِہَا"زلیخا والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی۔

۴؎ یعنی ان بیوی صاحبہ کا یہ کہنا یا تمہارا صرف ایک بیٹے کو عطیہ دینا یا میرا اس عطیہ پر گواہ بننا بہتر نہیں۔غرضکہ ھذا میں چند احتمال ہیں اور یصلح بمعنی بہتر و مناسب ہے نہ کہ بمعنی جائز و درست جیساکہ پہلے عرض کیا جاچکا کہ والدین اپنی زندگی میں جس بچہ کو جو چاہیں دیں مگر برابر کرنا بہترہے۔

۵؎ یہ حق باطل کا مقابل نہیں بلکہ غیر مناسب کا مقابل ہے یعنی ہم اس پر گواہ بنتے ہیں جو غیر مناسب یا مکروہ بھی نہ ہو۔

3032 -[17]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِبَاكُورَةِ الْفَاكِهَةِ وَضَعَهَا عَلَى عَيْنَيْهِ وَعَلَى شَفَتَيْهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ كَمَا أَرَيْتَنَا أَوَّلَهُ فَأَرِنَا آخِرَهُ» ثُمَّ يُعْطِيهَا مَنْ يَكُونُ عِنْدَهُ مِنَ الصِّبْيَانِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ جب آپ کے پاس نیا پھل لایا جاتا تو اسے آپ اپنی آنکھوں اور لبوں پر رکھتے ۱؎ اور عرض کرتے الٰہی جیسے تو نے ہم کو اس کی ابتداء دکھائی ہم کو اس کی انتہاء بھی دکھا ۲؎ پھر وہ پھل کسی اس بچے کو عطا فرمادیتے جو آپ کے پاس ہوتا ۳؎ (بیہقی دعوات کبیر)۴؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن