30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3026 -[11] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَتَاهُ الْمُهَاجِرُونَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا قَوْمًا أَبْذَلَ مِنْ كَثِيرٍ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً مِنْ قَلِيلٍ مِنْ قَوْمٍ نَزَلْنَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ: لَقَدْ كَفَوْنَا المؤونة وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَأِ حَتَّى لَقَدْ خِفْنَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ فَقَالَ: «لَا مَا دَعَوْتُمُ اللَّهَ لَهُمْ وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضور کی خدمت میں مہاجرین حاضر ہو کربولے ۱؎ یار سول اﷲ ہم جن لوگوں کے مہمان بنے ہیں ان سے بڑھ کر زیادہ مال خرچ کرنے والا اور تھوڑے مال سے مدد کرنے والا کوئی نہ دیکھا۲؎ ہماری طرف سے محنت مشقت تو خود کرتے ہیں اور آمدنی میں ہمیں شریک کرلیتے ہیں۳؎ حتی کہ ہم کو خوف ہے کہ سارا ثواب وہ ہی لے جائیں گے ۴؎ حضور نے فرمایا نہیں جب تک تم ان کے لیے اﷲ سے دعائیں کرتے رہو اور ان کی تعریف کرتے رہو ۵؎(ترمذی)ترمذی نے اسے صحیح کہا۔ |
۱؎ یہ واقعہ جب ہوا جب کہ انصار نے مہاجرین کو اپنے مالوں میں برابر کا حصہ دار کرلیا حتی کہ اپنے مکان کے دو حصے کرکے ایک مہاجر بھائی کو دے دیا،کھیت،باغ کا بھی اسی طرح بٹوارہ کردیا،اگر کسی انصاری کی دو بیویاں تھیں تو ایک کو طلاق دے کر مہاجر بھائی کے نکاح میں دے دی۔(مرقاۃ)
۲؎ اس جملہ میں انصار کی تعریف اور ان کی مہمان نوازی کی توصیف ہے۔قوم سے مراد انصار ہیں اور من کثیرو من قلیل ابذل کے متعلق ہے اور من قوم،ابذل اور احسن کا صلہ یعنی اس قوم انصار سے بڑھ کر ہم نے کوئی ایسی قوم نہ دیکھی جو مہمان پر تھوڑا اور بہت مال اس قدر خرچ کرتی ہو،ان میں مالدار تو اپنے بہت مال سے خرچ کرتے ہیں اور غریب اپنے تھوڑے مال سے مدد و معاونت کرتے ہیں۔مواساۃ کے معنی ہیں مدد بھلائی نکوئی وغیرہ۔(اشعہ و مرقات)
۳؎ یہ انصار کے دوسرے کمال کا ذکر ہے کہ ہم کو انہوں نے اپنے مالوں میں برابر شریک کرلیا تو چاہیے تھا کہ محنت میں بھی ہم برابر کے ہی شریک ہوتے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ محنت وہ کرتے ہیں اور نفع میں ہم کو برابر کا شریک کرتے ہیں،عربی میں مھنا بے مشقت حاصل شدہ مال کو کہتے ہیں۔
۴؎ یعنی انصار ان مہربانیوں کی وجہ سے ہماری ہجرت اور ہماری سار ی عبادتوں کا ثواب لے لیں گے،کیونکہ وہ ہمارے ہر نیکی میں معاون و مددگار ہیں۔
۵؎ یعنی ایسا نہ ہوگا بلکہ تمہاری دعا و ثناء کی وجہ سے اﷲ تعالٰی ان کو ثواب احسان علیحدہ عطا کرے گا اور تم کو ثواب ہجرت و عبادات علیحدہ دے گا۔اس سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے محسن کو دعائے خیروشکریہ سے یاد نہ کرے تو اندیشہ ہے کہ اس کے اعمال کا ثواب اس کے محسن و مددگار کو مل جائے اس لیے اپنے محسن کو ضرور دعائیں دو اور اس کے شکر گزار رہو۔
|
3027 -[12] وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَهَادُوا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ الضَّغَائِنَ». |
روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا ہدیہ کا لین دین کرو ہدیہ عداوتوں کو مٹا دیتا ہے ۱؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع