30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعائیں دیں کہ اﷲ ان کا بھلا کرے،ان کا خانہ آباد،انکے بال بچوں،صحابہ کو شاد رکھے،یہ درود بھی اسی حدیث پر عمل ہے،مولانا فرماتے ہیں۔شعر
چونکہ ذاتش ہست محتاج الیہ زاں سبب فرمود حق صلوا علیہ
۲؎ یعنی حمد و ثناء شکر کی ایک قسم ہے،شکر دلی بھی ہوتا ہے زبانی بھی،ارکانی بھی۔حمدوثناء زبانی شکریہ ہے جس سے اور زیادہ نعمتیں ملتی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ"اگر شکر کرو گے اور زیادہ دوں گا۔
۳؎ یہ فرمان عالی اس عورت سے فرمایا گیا تھا جس نے عرض کیا تھا کہ میری سوکن ہے میں چاہتی ہوں کہ اسے جلانے کے لیے اعلٰی لباس،عمدہ زیور پہنا کروں تاکہ وہ سمجھے کہ مجھے یہ سب کچھ میرے خاوند نے دیا ہے اور وہ مجھ سے زیادہ محبت کرتا ہے اس پر یہ ارشاد ہوا۔فریب کے کپڑے کی کئی صورتیں ہیں:غریب آدمی غرور و تکبر کے طور پر امیروں کے کپڑے پہنے،جاہل شخص ریا کے طور پر علماء و صوفیاء کا لباس پہنے،فاسق آدمی دھوکے دینے کے لیے متقیوں کا سا لباس رکھے تاکہ اس کی جھوٹی گواہی حکام مان لیا کریں،یہ سب کچھ دھوکے فریب کے لیے ہو،(مرقات)ایسا آدمی بہروپیا ہے اور اس کی یہ حرکت بری ہے،اگر اچھی نیت سے علماء کا لباس پہنے تو اچھاکہ اچھوں کی نقل بھی اچھی ہے۔
|
3024 -[9] وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِهِ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس کے ساتھ کوئی بھلائی کی جائے وہ بھلائی کرنے والے سے کہہ دے اﷲ تجھے جزا ئے خیر دے تو اس نے تعریف حد تک پہنچادی ۱؎(ترمذی) |
۱؎ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تو بدلہ سے عاجز ہوں،رب تعالٰی تجھے دین و دنیا میں اس سلوک کی جزاء خیر دے،اس مختصر سے جملہ میں اسکی نعمت کا اقرار بھی ہوگیا،اپنے عجز کا اظہار بھی اور اس کے حق میں دعائے خیر بھی۔شکریہ کا مقصد بھی یہ ہی ہوتا ہے،اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ دینے والے کی جھوٹی تعریف اور خوشامدانہ گفتگو نہ کرے،فاسق کو ولی نہ کہے،جاہل کو عالم نہ بتائے،فقیر کو شہنشاہ نہ کہے کہ جھوٹ بولنا گناہ بھی ہے اور بے فائدہ بھی، یوں ہی اگر کوئی تم سے بدسلوکی کرے تو اسے گالیاں نہ دو،برا بھلا نہ کہو بلکہ کہو "غَفراﷲ لك واصلح حالك" اﷲتجھے بخشے اور تیری ا صلاح کرے۔
|
3025 -[10] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو لوگوں کا شکریہ ادا نہ کرے وہ اﷲ کا شکریہ بھی ادا نہ کرے گا ۱؎ (احمد،ترمذی) |
۱؎ سبحان اﷲ! کتنا عالی مقام ہے،بندوں کا ناشکرا رب کا بھی ناشکرا یقینًا ہوتا ہے،بندہ کا شکریہ ہر طرح کا چاہیے دلی زبانی،عملی یوں ہی رب کا شکریہ بھی ہر قسم کا کرے،بندوں میں ماں باپ کا شکریہ اور ہے،استاد کا شکریہ کچھ اور شیخ بادشاہ کا شکریہ کچھ اور۔
|
3026 -[11] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَتَاهُ الْمُهَاجِرُونَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا قَوْمًا أَبْذَلَ مِنْ كَثِيرٍ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً مِنْ قَلِيلٍ مِنْ قَوْمٍ نَزَلْنَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ: لَقَدْ كَفَوْنَا المؤونة وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَأِ حَتَّى لَقَدْ خِفْنَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ فَقَالَ: «لَا مَا دَعَوْتُمُ اللَّهَ لَهُمْ وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضور کی خدمت میں مہاجرین حاضر ہو کربولے ۱؎ یار سول اﷲ ہم جن لوگوں کے مہمان بنے ہیں ان سے بڑھ کر زیادہ مال خرچ کرنے والا اور تھوڑے مال سے مدد کرنے والا کوئی نہ دیکھا۲؎ ہماری طرف سے محنت مشقت تو خود کرتے ہیں اور آمدنی میں ہمیں شریک کرلیتے ہیں۳؎ حتی کہ ہم کو خوف ہے کہ سارا ثواب وہ ہی لے جائیں گے ۴؎ حضور نے فرمایا نہیں جب تک تم ان کے لیے اﷲ سے دعائیں کرتے رہو اور ان کی تعریف کرتے رہو ۵؎(ترمذی)ترمذی نے اسے صحیح کہا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع