30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یہ فطرت اسلام کا بیان ہے۔لغۃً ہر نبی کا دین اسلام ہے،یعقوب علیہ اسلام نے اپنے فرزندوں سے فرمایا تھا "وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسْلِمُوۡنَ"اسی لیے فرمایا کہ اسلام سے مراد دین محمدی ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم بھی اسلام پر ہیں اور حضور کی امت بھی مگر حضور اس دین پر ہیں ہم کو چلانے کے لیے،ہم اس راہ پر ہیں چلنے کے لیے،ریلوے لائن پر انجن بھی ہے اور پیچھے والے ڈبے بھی مگر انجن چلانے کے لیے اور ڈبے چلنے کے لیے،رب فرماتا ہے :"اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیۡنَ عَلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ"بلکہ اپنے متعلق بھی فرماتا ہے:"اِنَّ رَبِّیۡ عَلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ"یعنی رب تعالٰی سیدھے راستہ پر ملتا ہے جیسے کہا جاتا ہے لاہور سیدھی سڑک پر۔
۳؎ کفار عرب شرک کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم دین ابرہیمی پر ہیں اس جملہ میں ان کی تردید ہے کہ حضرت ابراہیم تو مشرک نہ تھے تم مشرک ہو پھر تم ان کے دین پر کیسے ہوئے ہم دین ابراہیمی پر ہیں۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین ابرہیمی پر ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپ کا دین ملت ابراہیمی کے مطابق ہے نہ یہ کہ آپ ان کے متبع ہیں۔چنانچہ ختنہ حجامت،قربانی،مہمان نوازی تمام احکامِ ابراہیمی اسلام میں موجود ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع