دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

باب العطایا

بخششوں کا باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ کسی بڑے کا اپنے چھوٹے کو بغیر عوض کچھ دینا عطیہ کہلاتا ہے اور چھوٹے کا بڑے کو کچھ دینا نذرانہ اور برابر والے کا برابر والے کو دینا ہبہ۔چونکہ عطیے بہت قسم کے ہیں:عمری، رقبی،جائزہ ،انعام،سلطانی بخششیں،ماں باپ کا اپنی اولاد کو کچھ دینا وغیرہ اس لیے عطایا جمع ارشاد ہوا۔ علماء فرماتے ہیں کہ سلطانی عطیے قبول کرنا عالم،جاہل،فقیر،غنی ہر ایک کو جائز ہے کہ اگرچہ سلطانی اموال عمومًا حرام و حلال سے مخلوط ہوتے ہیں مگر مخلوط مال کا قبول کرنا،دعوت کا کھانا درست ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے شاہ اسکندریہ مقوقس وغیرہ کے ہدیے تحفے قبول فرمائے،یہود مدینہ سے قرض لیا حالانکہ ان کے متعلق رب تعالٰی فرماتاہے:"اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ"یہ لوگ حرام خور ہیں۔(مرقات وغیرہ)

3008 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ؟ قَالَ: «إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا» . فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ: إِنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا يُوهب وَلَا يُورث وَتصدق بهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: غير متأثل مَالا

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ جناب عمر نے خیبر میں کچھ زمین پائی ۱؎ تو آپ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میں نے خیبر میں ایسی زمین پائی ہے کہ میرے خیال میں ایسا نفیس مال میں نے کبھی نہ پایا ۲؎ حضور والا مجھے اس کے متعلق کیا حکم فرماتے ہیں ۳؎ فرمایا اگر تم چاہو تو اصل زمین محفوظ کردو اور اسے صدقہ کردو ۴؎ چنانچہ حضرت عمر نے صدقہ کردی کہ اصل زمین نہ بیچی جائے اور نہ ہبہ کی جائے نہ موروثی ہو اور فقیر، قرابتداروں،اﷲ کی راہ، مسافروں،مہمانوں میں صدقہ کردی ۵؎ اس زمین کے متولی پر اس میں مضائقہ نہیں کہ اس میں سے بطریق احسن کچھ کھالے یا کھلائے ۶؎ ہاں اسے مال نہ بنائے۔ابن سیرین نے فرمایا غیر متاثل مالا ۷؎(مسلم،بخاری)

۱؎ جس میں بہترین باغ تھے،اولًا تو زمین خیبر خود ہی بہت سبزہ زار ہے،پھر اس میں باغات بھی تھے جن کی آمدنی بہت تھی اس لیے آپ کو یہ زمین بہت ہی پسند آئی،یہ واقعہ غزوہ خیبر کے بعد کا ہے۔

۲؎ کیونکہ اولا تو مال غیر منقول ویسے بھی اعلٰی ہوتا ہے،خصوصًا خیبر کی زمین زرخیز و سبزہ زار جو پشتہا پشت تک کام آئے،ایسا اعلٰی مال میرے پاس کبھی نہ آیا تھا۔

۳؎ یعنی اس مال کو راہ خدا میں خیرات کرنا چاہتا ہوں مگر خبر نہیں کہ کیسی خیرات بہتر ہوگی ۔یہ عمل تھا اس آیت پر کہ"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ"اپنی پیاری چیز خیرات کرنا افضل ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن