30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۸؎ یعنی اگر تم دینے نہ دینے کسی کو پاس بسانے نہ بسانے میں مختار عام ہو تو میری بعثت بیکار ہے،نہیں،بلکہ جو ہم فرمائیں گے اس پر عمل کرنا ہوگا۔
۹؎ یعنی جس قوم کمزور کا حق زور آوروں سے نہ لیا جائے وہ قوم بربادی کے لائق ہے،حضرت ابن مسعود مسکین ضعیف ہیں تمہاری جماعت قوی ہے،اگر تمہارے جتھا کی رعایت کرکے ایک کمزور کو وہاں سے بے دخل کردیا جائے تو یہ ظلم ہے۔
|
3005 -[15] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي السَّيْلِ الْمَهْزُورِ أَنْ يُمْسَكَ حَتَّى يَبْلُغَ الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسَلَ الْأَعْلَى عَلَى الْأَسْفَل.رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مہزور کے پانی کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ۱؎ کہ یہاں تک پانی آنے دیا جائے کہ ٹخنوں کو پہنچ جائے پھر اوپر والا نیچے پر چھوڑ دے ۲؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ مہزور مدینہ منورہ کے ایک جنگل کا نام ہے جس کے پانی سے وہاں کی زمین کاشت کی جاتی ہے،مہزول لام سے وہ بھی ایک وادی ہی کا نام ہے مگر وہ وادی جبل یثرب کے دامن میں ہے،یہ اور وادی ہے وہ اور وادی مہزور ہے،ر سےمہزور عَلم ہے اس لیے اس پر الف لام نہ آنا چاہیے تھا مگر یہاں وصفی معنے میں ہے اسی لیے الف لام آگیا،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں بغیر الف لام ہے۔
۲؎ یعنی اس پانی سے تمام کھیت والے اپنی زمین سیراب کریں،ترتیب یہ ہوگی اوپر والا پہلے پانی سے لے اور نیچے والا بعد میں اور اوپر والا اتنا پانی لے کہ ٹخنوں ٹخنوں پانی کھڑا ہوجائے،پھر نیچے والے کی طرف چھوڑ دے،یہ ترتیب و پیمائش نہایت موزوں ہے جسے کاشتکار لوگ بخوبی سمجھتے ہیں۔
|
3006 -[16] وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ عضد من نخل فِي حَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَ الرَّجُلِ أَهْلُهُ فَكَانَ سَمُرَةُ يَدْخُلُ عَلَيْهِ فَيَتَأَذَّى بِهِ فَأتى النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فذكرذلك لَهُ فَطَلَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم ليَبِيعهُ فَأبى فَطلب أَن يناقله فَأَبَى قَالَ: «فَهَبْهُ لَهُ وَلَكَ كَذَا» أَمْرًا رَغْبَةً فِيهِ فَأَبَى فَقَالَ: «أَنْتَ مُضَارٌّ» فَقَالَ لِلْأَنْصَارِيِّ: «اذْهَبْ فَاقْطَعْ نَخْلَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَذكر حَدِيث جَابر: «من أحيي أَرضًا» فِي «بَاب الْغَصْب» بِرِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي صِرْمَةَ: «مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ» فِي «بَاب مَا يُنْهِي من التهاجر» |
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے کہ ایک انصاری کے باغ میں ان کا ایک کھجور کا دستہ تھا ۱؎ مالک باغ کے ساتھ اس کے گھر والے بھی تھے جب حضرت سمرہ باغ میں جاتے تو مالک کو تکلیف ہوتی ۲؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ ماجرا حضور سے عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے سمرہ سے مطالبہ فرمایا کہ سمرہ وہ بیچ دیں۳؎ انہوں نے انکار کیا تو فرمایا تبادلہ کرلیں وہ انکاری ہوئے فرمایا اسے ہبہ کردو تو تمہیں ایسا ثواب ہوگا اس کی انہیں رغبت دی مگر انہوں نے انکار کیا ۴؎ تب فرمایا درپے ایذا ہو انصاری کو حکم دیا جاؤ ان کا درخت کاٹ دو ۵؎ (ابوداؤد)حضرت جابر کی حدیث کہ جو زمین آباد کرے باب غصب میں سعید ابن زید کی روایت سے ذکر کردی گئی اور ابو صرمہ کی حدیث کہ جو نقصان دے اﷲ اسے نقصان دے گا اس باب میں ذکر ہوگی کہ تعلق ممنوع ہے ۶؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع