دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

پانی کا چشمہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔عدّ ع کے کسرہ سے بمعنی مہیا یعنی نفع کے لیے تیار کی ہوئی چیز۔مطلب یہ تھا کہ یہ نمک کا ذخیرہ رفاہ عام کی چیز ہے،ایک کی ملکیت بن جانے سے سب کو تکلیف ہوجائے گی۔

۴؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بادشاہ اندرونی کانوں کو بطور جاگیر دے سکتا ہے جیسے پہاڑی نمک کا تیل فیروزہ اور گندھک وغیرہ کی کانیں،ظاہری کانیں جیسے پانی کا نمک وغیرہ کسی کو بطور جاگیر نہیں دے سکتا کہ یہ پانی، گھاس وغیرہ کی طرح رفاہ عام کی چیزیں ہیں کہ ایک کی ملکیت میں جانے سے سب کو تکلیف ہوجائے گی۔دوسرے یہ کہ حاکم اپنے فیصلہ کو ردّ بھی کرسکتا ہے اور اس میں ترمیم بھی اور حاکم کے فیصلہ کی اپیل بھی کی جاسکتی ہیں۔

۵؎ یعنی بستی کے آس پاس کی وہ زمینیں جن کی بستی والوں کو ضرورت رہتی ہے اور جہاں تک ان کے جانور چرنے پھرنے آتے ہیں وہاں تک کی زمین موات نہیں اور نہ اسے کوئی آباد کرکے مالک ہوسکتا ہے کہ اس سے سب کو تکلیف ہوجائے گی۔وہ زمینیں جو شہر سے دور ہوں،کسی کی مملوک نہ ہوں،رفاہ عام کی نہ ہوں وہ موات ہیں اور اس کی آباد کاری جائز ہے۔

3001 -[11]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاث: الْمَاءِ وَالْكَلَأِ وَالنَّارِ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں پانی، گھاس اور آگ میں ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎  یہاں پانی سے وہ پانی مراد ہے جو نہ کسی کی محنت سے حاصل ہوا ہو،نہ کسی کے برتن میں بھرا ہوجیسے جنگل، بارش،سیلاب کا پانی مگر اپنے نہر گھڑے،اپنی نالی کا پانی اس سے خارج ہے۔ایسے ہی گھاس سے وہ گھاس مراد ہے جو غیر مملوک زمین میں کھڑی ہو اپنی مملوک زمین کی گھاس،ایسے ہی وہ گھاس جو کاٹ کر اپنے گھر میں رکھ لی مملوک ہے۔آگ سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص کو اپنے چراغ کی روشنی میں بیٹھنے آگ تاپنے سے نہیں روک سکتے،یوں ہی اپنے شمع سے دوسرے کوشمع جلانے سے منع نہیں کرسکتے،بعض نے فرمایا کہ آگ سے مراد چقماق پتھر ہے لہذا ہر شخص اپنی آگ سے چنگاری لینے سے منع کرسکتا ہے کہ یہ اسی کی ملک ہے اور اس سے آگ کم بھی ہو جاتی ہے۔(مرقات،اشعہ)

3002 -[12]

وَعَنْ أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ فَقَالَ: «مَنْ سَبَقَ إِلَى مَاءٍ لَمْ يَسْبِقْهُ إِلَيْهِ مُسْلِمٌ فَهُوَ لَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت اسمر ابن مضرس سے فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے حضور سے بیعت کی آپ نے فرمایا جو ایسے پانی پر قبضہ کرے جس تک کسی مسلمان کا قبضہ نہ پہنچا ہو تو وہ اسی کا ہے ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے اس نے بتایا کہ غیر مملوک چیز پر اگر کوئی قبضہ کرے تو وہ قابض اس کا مالک ہوگا جیسے شکار کا جانور،خودرو جنگلی درختوں کے پھل،جنگل کا پانی،غیرمملوک زمین میں اُگی ہوئی گھاس،بن کی لکڑی وغیرہ مگر ان میں سے جو کسی کی مملوک بن چکی ہو اس پر ملکیت نہیں آسکتی۔

3003 -[13]

وَعَنْ طَاوُسٍ مُرْسَلًا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «من أحيى مَوَاتًا مِنَ الْأَرْضِ فَهُوَ لَهُ وَعَادِيُّ الْأَرْضِ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ مِنِّي» . رَوَاهُ الشَّافِعِي

3004 -[14]

وَرُوِيَ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ الدُّورَ بِالْمَدِينَةِ وَهِيَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ عِمَارَةِ الْأَنْصَارِ مِنَ الْمَنَازِلِ وَالنَّخْلِ فَقَالَ بَنُو عَبْدِ بن زهرَة: نكتب عَنَّا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ الله: «فَلِمَ ابْتَعَثَنِي اللَّهُ إِذًا؟ إِنَّ اللَّهَ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِلضَّعِيفِ فِيهِمْ حَقُّهُ»

روایت ہے حضرت طاؤس سے ۱؎  ارسالًا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو بنجر غیر آباد زمین کو آباد کرے تو وہ زمین اسی کی ہے ۲؎ اور پرانی غیرمملوکہ زمینیں اﷲ اور رسول کی ہیں ۳؎ پھر میری طرف سے وہ تمہاری ہیں ۴؎(شافعی)

اور شرح سنہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عبداﷲ ابن مسعود کو مدینہ منورہ میں مکانات بطور جاگیر بخششیں فرمائے جو انصارکی  آبادی مکانات اور باغ کے درمیان تھے ۵؎ تو عبداﷲ ابن زہرہ کے خاندان نے کہا ۶؎ حضور ہم سے ام عبد کے بیٹے کو دور فرمائیں ۷؎ انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا کہ پھر مجھے اﷲ تعالٰی نے بھیجا کیوں ہے ۸؎ اﷲ اس جماعت کو پاک نہیں فرماتا جس میں کمزور کا حق نہ لیا جائے ۹؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن