30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جیسے بادشاہ بیت المال کا روپیہ کسی کو دے سکتا ہے ایسے ہی بیت المال کی زمین بھی کسی کو بخش سکتاہے،یہ زمین بیت المال کی ملکیت تھی جو حضور انور نے حضرت زبیرکو بخش دی۔امام اعظم فرماتے ہیں کہ زمین موات تھی جو حضرت زبیر کو احیاء یعنی آباد کرنے کے لیے عطا ہوئی اسی لیے صاحب مشکوۃ یہ حدیث احیاءموات کے باب میں لائے۔بادشاہ اعلان بھی کرسکتا ہے کہ جو جس زمین کو آباد کرے وہ اسی کی ہےاور اس طرح بخش بھی سکتا ہے ہر طرح سے اختیار ہے۔
|
2999 -[9] وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضًا بِحَضْرَمَوْتَ قَالَ: فَأَرْسَلَ مَعِي مُعَاوِيَةَ قَالَ: «أَعْطِهَا إِيَّاه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي |
روایت ہے حضرت علقمہ ابن وائل سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں حضر موت میں کچھ زمین جاگیر بخشی فرماتے ہیں میرے ساتھ حضرت معاویہ کو بھیجا فرمایا وہ زمین انہیں دے آؤ ۲؎(ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ علقمہ تابعی ہیں،ان کے والد حضرت وائل ابن حجر حضری صحابی ہیں،یہ یمن کے شاہزادے تھے،ان کے دوسرے صاحبزادے عبدالجبار ہیں، دونوں تابعی ہیں،حضرت وائل ابن حجر کو حضور انور نے یہ عطیہ دیا۔
۲؎ حضر موت یمن کا مشہور شہر ہے،اہلِ یمن کے مورث اعلٰی عامر کا یہ لقب تھا کیونکہ وہ جس جنگ میں پہنچ جاتے وہاں کشتوں کے پشتے لگ جاتے اس لیے انہیں حضر موت کہتے تھے انہوں نے یہ شہر آباد کیا تو شہر کا نام حضر موت ہوا اور بھی کئی وجہ تسمیہ بیان کی گئی ہیں اور یہ معاویہ ابن ابو سفیان نہیں بلکہ معاویہ ابن حکم سلمی ہیں کیونکہ معاویہ ابن ابوسفیان کا اسلام تو فتح مکہ میں ظاہر ہوا اور یہ واقعہ فتح مکہ سے بہت پہلے کا ہے۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو قبضہ دینے اور لینے کا وکیل کرسکتے ہیں۔
|
3000 -[10] وَعَن أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالِ الْمَأْرِبِيِّ: أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ الَّذِي بِمَأْرِبَ فَأَقْطَعُهُ إِيَّاهُ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَقْطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ قَالَ: فَرَجَّعَهُ مِنْهُ قَالَ: وَسَأَلَهُ مَاذَا يحمى من الْأَرَاك؟ قَالَ: «مَا لَمْ تَنَلْهُ أَخْفَافُ الْإِبِلِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدارمي |
روایت ہے حضرت ابیض ابن حمال ماربی سے ۱؎ کہ وہ بطور نمائندہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حضور سے مارب کے نمک کی کان کی جاگیر مانگی ۲؎ حضور نے انہیں وہ جاگیر عطا فرمادی جب وہ چلے گئے تو کسی شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم آپ نے تو انہیں پانی کا چشمہ جاگیر دے دیا ۳؎ فرماتے ہیں تب حضور نے وہ ان سے واپس لے لیا ۴؎ راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور سے پوچھا کہ کس قدر پیلو چراگاہ بنائے جاسکتے ہیں فرمایا جہاں تک اونٹوں کے سم نہ پہنچیں ۵؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی) |
۱؎ ان کا نام پہلے اسود تھا،نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ابیض رکھا،مارب یمن کے علاقہ صنعا کا مشہور شہر ہے جہاں نمک کثرت سے پیدا ہوتا ہے۔
۲؎ یعنی عرض کیا کہ مجھے وہاں کا نمک عنایت فرمادیجئے کہ میں اس کی تجارت کرکے گزر اوقات کروں۔
۳؎ یہ عرض کرنے والے اقرع ابن حابس تمیمی ہیں یا عباس ابن مرداس،آپ نے سمجھا تھا کہ وہاں نمک پہاڑی ہوگا جو بصد دشواری کھودکر نکالا جاتا ہوگا اس لیے وہ بطور جاگیر عنایت فرمادیا،ان صاحب نے عرض کیا کہ وہ تو جھیل ہے جس سے بغیر مشقت نمک بنتا ہے،وہاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع