دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۱؎ یہاں عمرو سے مراد عمرو ابن دینار ہیں جن کی کنیت ابویحیی ہے،تابعین میں سے نہایت متقی ثقہ ہیں،عمرو ابن واقد دمشقی یا عمرو ابن میمون اودی یا عمرو ابن تشرید ثقفی مراد نہیں۔(لمعات و مرقات)

۲؎ طاؤس ابن کیسان آئمہ دین علمائے تابعین بہتر صالحین سے ہیں،چالیس حج کیے،مقبول الدعاء تھے،حضرت عبداﷲ ابن عباس کے خاص صحبت یافتہ۔عمرو ابن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے طاؤس جیسا عالم،عامل نہ دیکھا،آپ نے مکہ معظمہ میں ۱۰۵ھ؁  میں وفات پائی،آپ سے امام زہری اور کئی ایک خلفاء نے روایات لیں ہیں۔

۳؎ کھیتی کرانے کے متعلق صحابہ کا اختلاف رہا،بعض حضرات مطلقًا ناجائز سمجھتے تھے،انہیں یا تو مفصل حدیث نہ پہنچی تھی یا وہ حدیث کا مطلب نہ سمجھے تھے اس لیے عمرو ابن دینار نے یزعمون فرمایا۔

۴؎ یعنی یہ کام ناجائز نہیں اور اس میں غریبوں کی مدد ہوجاتی ہے کہ وہ لوگ اس زمین میں کام کاج کرکے پیٹ پال لیتے ہیں غرضکہ یہ کام جائز بھی ہے نافع بھی۔

۵؎  خلاصہ یہ ہے کہ وہ ممانعت تحریم یا کراہت کی نہیں ہے بلکہ خلاف اولٰی کے لیے ہے یعنی غریب بھائی کو عاریۃً زمین دے دینا اس سے بہتر ہے کہ اس سے کچھ کرایہ لیا جائے کہ کبھی زمین میں کچھ بھی پیدا نہیں ہوتا اور کرایہ اس پر بلاوجہ پڑ جاتا ہے۔خیال رہے کہ رافع ابن خدیج کو یہ احادیث مختلف ذرائع سے پہنچیں،بعض احادیث انہوں نے براہ راست حضور سے سنیں،بعض احادیث اپنے چچاؤں کی معرفت پہنچیں اس لیے وہ کبھی تو فرماتے ہیں میں نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا اور کبھی فرماتے ہیں مجھ سے میرے بعض چچاؤں نے کہا انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا لہذا حدیث میں اضطراب نہیں بلکہ روایات میں اختلاف ہے لہذا یہ حدیث مضطرب اصطلاحی نہیں اس لیے مسلم،بخاری نے ان احادیث کی تخریج فرمائی ورنہ اصطلاحی اضطراب حدیث کو ضعیف کردیتا ہے۔اور کرایہ زمین کی ممانعت کی بہت وجوہ احادیث میں وارد ہیں،بعض میں ہے کہ کرایہ نہ لینا اپنے بھائی مسلمان کو یوں ہی عاریۃً دے دینا افضل ہے،بعض میں ہے کہ کاشت وغیرہ کی وجہ سے جہاد سے باز نہ رہو،بعض میں ہے کہ جب اسی کرایہ کی بناء پر جھگڑے بڑھ گئے تو حضور انور نے اس سے منع فرمادیا،بعض میں ہے کہ زمیندار کاشتکار کے لیے زمین کے حصے مقرر کردیتا کہ اس کی پیداوار تیری اتنے کی میری اس سے منع فرمایا۔غرضکہ بعض صورتوں میں مزارعت جائز ہے،بعض میں مکروہ،بعض صورتوں میں بالکل ممنوع،تمام احادیث درست ہیں۔

2977 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أرضه»

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس کے پاس زمین ہو تو وہ اسے خود بوئے یا کسی اپنے بھائی کو عاریۃً دے دے اگر نہ مانے تو اپنی زمین روک رکھے ا؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ امر اخلاقی ہے یعنی تقاضائے اخلاق یہ ہے کہ یا تو اپنے مال سے خود نفع اٹھائے یا دوسروں کو نفع پہنچائے،اگر یہ دونوں کام نہیں کرتا تو وہ جانے سنبھال رکھے اپنی زمین،یہ زمین غیر نافع ہے اور ممکن ہے کہ انکار کرنے والا دوسرا شخص ہو یعنی اگر دوسرا آدمی اس عاریت کو قبول نہ کرے تو اپنی زمین محفوظ رکھے کچھ روز کاشت نہ کرنے سے زمین کی طاقت بڑھتی ہے،یہ روکنا بھی اسے مفید ہوگا۔

2978 -[7]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَرَأَى سِكَّةً وَشَيْئًا مِنْ آلَةِ الْحَرْثِ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ هَذَا بَيْتَ قوم إِلَّا أدخلهُ الذل» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ انہوں نے ہل اور کچھ کھیتی باڑی کا سامان دیکھا ۱؎ تو فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ یہ چیزیں کسی کے گھر میں داخل نہ ہوں گی مگر اﷲ اس گھر میں ذلت ڈال دے گا۲؎(بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن