30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی جو چیز جانور کے پاؤں تلے آکر برباد ہلاک ہوجائے اس کا ضمان مالک پر نہیں،یونہی اگرکسی کے گھر کی آگ اُڑ کر دوسرے کی چیز کو جلادے تو آگ والے پر ضمان نہیں،یہ دونوں حکم اس صورت میں ہیں کہ مالک جانور اور آگ والے کی زیادتی نہ ہو،اگر ہوگی تو تاوان لازم ہوگا مثلًا آندھی چلتے ہوئے کوئی بلا وجہ بے احتیاطی سے آگ جلائے جس سے دوسرے کے گھر میں آگ لگ جائے تو یقینًا تاوان واجب ہوگا،یونہی بے احتیاطی سے جانور یا موٹر تیز دوڑائے کہ کوئی کچل جائے تو تاوان یقینًا لازم ہے۔آج کل حکومت بے احتیاط ڈرائیور پر جرمانے وغیرہ کرتی ہے،ریل کے حادثہ کی صورت میں کانٹے والے یا دوسرے ذمہ دار لوگ پکڑے جاتے ہیں،انکا ماخذ اس قسم کی احادیث ہیں۔بہرحال قصوروار کی پکڑ ہے،بے قصور معافی میں ہے۔
|
2953 -[16] وَعَن الْحسن عَن سَمُرَة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهُ أَحَدٌ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِنْ لَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت حسن سے وہ حضرت سمرہ سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی جانوروں پر آئے تو اگر ان میں ان کا مالک موجود ہو تب تو اس سے اجازت لے لے ۱؎ اور اگر وہاں مالک نہ ہو تو تین آوازیں دے اگر کوئی اس کی آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے لے اور اگر کوئی جواب نہ دے تو دوہ لے اور پی لے مگر لے نہ جائے ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ اور اجازت لےکرجانور دوہے،دودھ پئے کہ مالک کی اجازت پر اس کی چیز استعمال کرسکتے ہیں۔
۲؎ یہ حکم اس مجبور و مضطر کے لیے ہے جو بھوک سے مررہا ہو اور کوئی کھانے کی چیز میسر نہ ہو وہ ایسی مجبوری میں اس جانور کا دودھ بغیر مالک کی اجازت بھی پی لے بلکہ اگر مالک موجود ہو اور اجازت نہ دے تب بھی پی لے کہ جان جارہی ہے اس کا بچانا ضروری ہے،پھر جب خدا دے تو اس کی قیمت مالک کو ادا کردے اور یہ پینا بھی بقدر ضرورت جائز ہے جس سے جان بچ جائے،بلاضرورت یا ضرورت سے زیادہ ہرگز نہ پئے۔(مرقات،لمعات وغیرہ)ایسی مجبوری میں تو مردار بلکہ سور وغیرہ حرام گوشت بھی حلال ہوجاتے ہیں،رب فرماتا ہے:"فَمَنِ اضْطُرَّ فِیۡ مَخْمَصَۃٍ غَیۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ" اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ لے نہ جائے کہ یہ ضرورت سے زیادہ ہے لہذا حدیث پر چکڑالویوں کا یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ اس میں چوری جائز کردی گئی۔
|
2954 -[17] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ دَخَلَ حَائِطًا فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کسی باغ میں جائے وہ کھا تو لے ذخیرہ نہ کرے ۱؎ (ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ بھوکا مسافر جب بھوک سے جان بلب ہو اور کسی باغ پر گزرے جس کا مالک موجود نہیں یا ہے تو اجازت نہیں دیتا،ایسی حالت میں اس کی بغیر اجازت بقدر بقاءحیات پھل کھالے،لے نہ جائے،پھر آمدنی ہونے پر اس کی قیمت ادا کردے لہذا حدیث واضح ہے۔خبنہ خ کے پیش ب کے جزم سے خبن سے بنا بمعنی دامن ،دامن میں چھپائی چیز کو خبنہ کہتے ہیں پھر ہر ذخیرہ کی ہوئی چیز کو خبنہ کہنے لگے۔(اشعہ،مرقات،لمعات)
|
2955 -[18] وَعَن أُميَّة بن صَفْوَان عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ: أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدَ؟ قَالَ: «بَلْ عَارِيَةً مَضْمُونَةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت امیہ ابن صفوان سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے حنین کے دن ان کی زرہ عاریۃً لی وہ بولے یا رسول اﷲ کیا غضب سے لیتے ہیں ۲؎ فرمایا نہیں بلکہ عاریۃً جس کا ضمان دیا جائے گا۳؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع