دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

2948 -[11]

وَعَن السَّائِب بن يزِيد عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ لَاعِبًا جَادًّا فَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَرِوَايَتُهُ إِلَى قَوْله: «جادا»

روایت ہے حضرت سائب ابن یزید سے وہ اپنے والد سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ۱؎ فرمایا تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائیوں کی لاٹھی نہ تو دل لگی سے لے نہ ارادۃً جو اپنے بھائی کی لاٹھی لے لے وہ اسے واپس دے دے۲؎ (ترمذی،ابوداؤد) اور ابوداؤد کی روایت جادا تک ہے۔

۱؎ آپ صغیر السن صحابی ہیں،     ۲ھ؁  میں پیدا ہوئے،حجۃ الوداع میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوئے،اس وقت آپ سات سال کے تھے،آپ کی کنیت ابو یزید کندی ہے،حضرت عمرنے آپ کو بازار مدینہ کا حاکم مقرر فرمایا تھا،  ۸۰ھ؁  یا     ۸۶ھ؁   میں مدینہ منورہ میں انتقال ہوا، آپ مدینہ منورہ کے آخری صحابی ہیں جو وہاں فوت ہوئے۔

۲؎  عصا وہ معمولی لاٹھی کہلاتی ہے جو بوڑھوں کے ہاتھوں میں رہتی ہے کبھی جانور ہانکنے کی قمچی کو عصا کہہ دیتے ہیں،یہاں دونوں معنے بن سکتے ہیں۔مقصدیہ ہے کہ کسی کی معمولی چیز بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر نہ لو۔اگر نادانی میں لے چکے ہو تو معلوم ہونے پر فورًا واپس کردو چیز چھپانے چرانے کا مذاق بھی جائز نہیں۔(اشعہ)

2949 -[12]

وَعَن سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَيَتَّبِعُ الْبَيِّعُ مَنْ بَاعَهُ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت سمرہ سے ۱؎  وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا جو کسی شخص کے پاس بعینہ اپنا مال پائے وہ وہی اس کا حق دار ہے ۲؎  اور خریدار بیچنے والے کا پیچھا کرے ۳؎(احمد،ابو داؤد،نسائی)

۱؎ آپ سمرہ ابن جندب فزاری ہیں،انصار کے حلیف بہت احادیث کے حافظ ہیں،   ۵۹ھ؁ میں بصرہ میں وفات پائی۔

۲؎ یہ جملہ پہلے بھی دیوالیہ کے بیان میں گزر گیا ہے وہاں اس کا مطلب اور تھایہاں غصب چوری یا ڈکیتی کا مال مراد ہے یعنی اگر غاصب یا چور یا ڈاکو چوری کا مال فروخت کردے،پھر مالک خریدار کے پاس وہ مال پائے تو اس سے لے لے گا خریدار یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے خریدا ہے۔اس سے دو مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ ناجائز قبضہ سے قابض مالک نہیں ہوجاتا۔چور رشوت خور سود خور چوری،رشوت اور سود کے مال کے مالک نہیں کہ یہ ناجائز قبضے ہیں۔ دوسرے یہ کہ غیر کا مال بغیر اس کی اجازت فروخت نہیں کر سکتے اگر فروخت کردیا تو بیع درست نہ ہوگی۔

۳؎ یعنی مالک سے خریدار قیمت نہیں مانگ سکتا بلکہ چیز اس کے حوالے کردے گا اور بیچنے والے کا پیچھا کرے گا اور اس سے قیمت لے گا لیکن اگر کوئی شخص جانتے ہوئے چور یا غاصب سے چیزسستی خریدلے تو مجرم ہے کہ یہ چور و غاصب کا مددگار معاون ہے،حدیث میں اس خریدار کا ذکر ہے جو بے خبری سے غاصب سے خریدے۔

2950 -[13]

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں ہاتھ پر وہ چیز واجب ہے جو اس نے لی حتی کہ اسے ادا کر دے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن