30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی عروہ اگرچہ صحابی ہیں مگر انہوں نے خود حضور انور سے یہ حدیث نہ سنی ان سے کسی اور راوی نے بیان کی انہوں نے اس راوی کا نام نہ لیا۔خیال رہے کہ صحابی کی مرسل حدیث بالاتفاق قبول ہے،تابعی کی مرسل حدیث امام شافعی کے ہاں حجت نہیں،ہمارے ہاں حجت ہے۔مرقات نے فرمایا کہ شاید حضرت عروہ نے سعید ابن زید سے ہی روایت کی ہے مگر امام مالک کی روایت میں سعید ابن زید کا نام شاید مذکور نہیں اس لیے وہ حدیث مرسل ہوئی اور احمد کی اسناد متصل۔
۵؎ یہ حدیث مختلف الفاظ سے مختلف اسنادوں سے بہت آئمہ نے روایت کی۔چنانچہ بیہقی نے باسناد حسن حضرت عائشہ صدیقہ سے مرفوعًا روایت کی فرمایا کہ"العباد عباد اﷲ والبلاد بلاد اﷲ من احیا من موات الارض شیئا فھو لہ ولیس لعرق ظالم حق"۔
|
2946 -[9] وَعَن أبي حرَّة الرقاشِي عَن عَمه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان وَالدَّارَقُطْنِيّ فِي الْمُجْتَبى |
روایت ہے حضرت ابو حرہ رقاشی سے وہ اپنے چچا سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے خبردار ظلم نہ کرنا خبردار کسی شخص کا مال دوسرے کو حلال نہیں مگر اس کی خوش دلی سے ۲؎ (بیہقی شعب الایمان،دارقطنی فی مجتبیٰ) |
۱؎ ابوحرہ تابعی ہیں،بصری ہیں۔حق یہ ہے کہ ثقہ ہیں،اگرچہ بعض نے انہیں ضعیف بھی کہا ہے،ان کے چچا صحابی ہیں جن کا نام معلوم نہ ہوسکا مگر صحابی کا نام معلوم نہ ہونا مضر نہیں کیونکہ سارے صحابہ عادل ہیں۔(اشعہ و مرقات)
۲؎ شخص سے مراد حربی کافر کے علاوہ دیگر لوگ ہیں،یہ حدیث بہت سے احکام کا ماخذ ہے۔مالی جرمانے کسی کی چوری،کسی کا مال لوٹ لینا،کسی کا مال جبرًا نیلام کردینا یہ سب حرام ہے۔خیال رہے کہ دیوالیہ کا مال درحقیقت اس کے قرض خواہوں کا مال ہے اس لیے حاکم دیوالیہ کی اجازت کے بغیر نیلام کردیتا ہے۔غرضکہ بعض صورتیں اس سے مستثنٰی ہیں۔لَا تَظْلِمُوْا کے معنی ہیں کہ غیر پر ظلم نہ کرو یا اپنے پر ظلم نہ کرو۔
|
2947 -[10] وَعَن عمرَان ابْن حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا اسلام میں نہ تو دور سے لانا جائز نہ دور لے جانا جائز ۱؎ نہ شغار حلال ۲؎ اور جو لوٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں ۳؎(ترمذی) |
۱؎ جلب و جنب زکوۃ میں بھی ہوتا ہے اور گھوڑ دوڑ میں بھی،ہم نے یہ معنے زکوۃ کے جلب و جنب کے کئے ہیں،اس کی شرح کتاب الزکوۃ میں گزرچکی۔گھوڑ دوڑ میں گھوڑے کے ساتھ دوسرا گھوڑا لگانا اس پر سے اس گھوڑے کو ڈاٹنا جلب ہے اور دوسرا گھوڑا خالی رکھنا کہ اس کے تھکنے پر اس پر سوار ہوجائے جنب ہے۔(لمعات)
۲؎ نکاح کے عوض نکاح کرنا کہ ہر ایک نکاح دوسرے نکاح کا مہر ہو شغارکہلاتا ہے۔امام اعظم کے ہاں یہ نکاح درست ہوگا اور شرط باطل مہر مثل واجب ہوگا،بعض اماموں کے ہاں نکاح ہی درست نہیں۔ان شاءاﷲ اس کی بحث کتاب النکاح میں ہوگی۔
۳؎ یعنی ہماری جماعت سے نہیں یا ہمارے طریقہ سے نہیں،ہم لوٹنے لٹانے یعنی بکھیر کا فرق پہلے عرض کرچکے ہیں۔
|
2948 -[11] وَعَن السَّائِب بن يزِيد عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ لَاعِبًا جَادًّا فَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَرِوَايَتُهُ إِلَى قَوْله: «جادا» |
روایت ہے حضرت سائب ابن یزید سے وہ اپنے والد سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ۱؎ فرمایا تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائیوں کی لاٹھی نہ تو دل لگی سے لے نہ ارادۃً جو اپنے بھائی کی لاٹھی لے لے وہ اسے واپس دے دے۲؎ (ترمذی،ابوداؤد) اور ابوداؤد کی روایت جادا تک ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع