30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2942 -[5] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ فَانْصَرَفَ وَقَدْ آضَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ: " مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ لَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ وَذَلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَكَانَ يسرق الْحَاج بمحجته فَإِن فطن لَهُ قَالَ: إِنَّمَا تعلق بمحجتي وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا ثُمَّ جِيءَ بِالْجَنَّةِ وَذَلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرَتِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أفعل ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں سورج گہن گیا جس دن کہ حضرت ابراہیم ابن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات پائی ۱؎ تو حضور نے لوگوں کو دو رکعتیں چھ رکوعوں اور چار سجدوں سے پڑھائی ۲؎ پھر فارغ ہوئے حالانکہ سورج اصلی حالت پر لوٹ چکا تھا فرمایا جن چیزوں کی تمہیں خبر دی گئی ہے ان میں سے کوئی چیز نہیں مگر میں نے اپنی اس نماز میں وہ سب دیکھ لیں ۳؎ حتی کہ آگ لائی گئی اور یہ جب تھا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹا ۴؎ اس خوف سے کہ اس کی لپٹ مجھے پہنچ جائے ۵؎ اور حتی کہ میں نے آگ میں تیرنے والے کو دیکھا جو اپنی آنتیں آگ میں کھینچ رہا ہے ۶؎ وہ اپنے نیزے سے حاجیوں کی چوری کرلیتا تھا اگر اس کی حرکت معلوم ہوجاتی تو کہہ دیتا تھا کہ یہ میرے نیزے سے لگ رہا اور اگر اس سے بے خبر رہی تو لے جاتا ۷؎ اور حتی کہ میں نے اس میں بلی والی کو دیکھا جس نے بلی کو باندھ رکھا کہ اسے کچھ نہ کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی ۸؎ پھرجنت لائی گئی اور یہ جب تھا کہ تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھا حتی کہ اپنی جگہ کھڑاہوگیا ۹؎ اور میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا میں چاہتا تھا کہ اس کے کچھ پھل لے لوں تاکہ تم انہیں دیکھو پھر رائے یہ ہی قائم ہوئی کہ ایسا نہ کروں ۱۰؎(مسلم) |
۱؎ اس کی تحقیق باب صلوۃ الکسوف میں ہوچکی کہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات چاند کی دسویں تاریخ کو ہوئی،ریاضی کے قاعدہ سے اس دن سورج گرہن لگ سکتا ہی نہ تھا مگر رب تعالٰی نے ان کا قاعدہ توڑ دیا،حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ بقر عید ۸ھ میں بی بی ماریہ قبطیہ کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور سولہ یا اٹھارہ مہینہ کی عمر پاکر وفات پا گئے اور بقیع میں دفن ہوئے۔
۲؎ اس طرح کہ ہر رکعت میں تین رکوع اور دو سجدے کیے اس کی تحقیق نماز کسوف میں گزرچکی ۔ہمارے ہاں اس نماز کی ہر رکعت میں بھی اور نمازوں کی طرح ایک رکوع اور دو سجدے ہی ہوں گے،اس کے جوابات اسی باب میں عرض کردیئے گئے۔
۳؎ یعنی جنت اور وہاں کی نعمتیں اور دوزخ اور وہاں کے سارے عذاب اپنی ان آنکھوں سے ملاحظہ فرمالیے،حدیث بالکل ظاہری معنے پر ہے۔اس میں کسی تاویل اور توجیہ کی ضرورت نہیں اس کی پوری تحقیق نماز کسوف میں ہوچکی ہے۔
۴؎ باب الکسوف میں گزرچکا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس نماز میں دوبار کچھ جنبش فرمائی ایک بار تو آگے بڑھ کر کچھ لینے کے ارادے سے اور ایک بار پیچھے ہٹ کر بچنے کے قصد سے،اُسے فرمارہے ہیں کہ جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں عین نماز کی حالت میں کسی خطرناک چیز سے بچتے ہوئے پیچھے ہٹا تو اس وقت دوزخ ہمارے سامنے تھی اس سے بچنا مقصود تھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع