دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۲؎ آپ خادم کو مارنا نہ چاہتی تھیں کہ وہ تو بے قصور تھا بلکہ ارادہ پیالہ پھینکنے کا تھا اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارنا اسی نیت پر تھا۔چنانچہ خادم کو چوٹ نہ لگی اورپیالہ گر گیا اسی لیے حضور انور نے خادم کو قصاص نہ دلوایا پیالہ کا عوض دلوایا۔

۳؎ یہ ہے سرکار کا حلم و اخلاق اور نعمت الٰہی کی قدر دانی کہ آپ ام المؤمنین پر ناراض نہ ہوئے اور کھانا ضائع نہ جانے دیا۔اس سے پتہ لگا کہ گرے ہوئے لقمہ کو بھی جھاڑ پونچھ کر کھالینا چاہیے جیساکہ دوسری روایتوں میں صراحۃً  آتا ہے۔

۴؎ یعنی ام المؤمنین نے یہ کام ظلمًا نہیں کیا نہ وہ اس میں گنہگار ہیں بلکہ فطرت بشری کی بنا پر کیا کہ قدرتی طور پر ہر بی بی اپنی سوکن کی چیز کو اپنے گھر آنا پسند نہیں کرتی،فطری چیز پر پکڑ نہیں ہواکرتی۔سبحان اﷲ! کیسی برکت والی ماں ہیں کہ یہاں ان کی صفائی حضور انور بیان فرمارہے ہیں اور دوسرے مقام پر ان کی صفائی اﷲ تعالٰی قرآن میں بیان فرمارہا ہے ان خطاؤں پر ہماری لاکھوں عبادتیں قربان۔

۵؎ یہ پیالہ کا ضمان نہ تھا ورنہ قیمت دلوائی جاتی کیونکہ پیالہ شرعًا مثلی چیز نہیں ہے قیمتی چیز ہے جس کے توڑنے پر بدلہ میں قیمت واجب ہوتی ہے بلکہ یہ عمل شریف اخلاقًا تھا کیونکہ دونوں پیالے حضور ہی کے تھے،وہاں ضمان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بعض شارحین نے اس کی اور وجہیں بھی بیان کی ہیں مگر یہ وجہ نہایت اعلٰی ہے،دینے والے بھی حضور ہیں اور لینے والے بھی،گھر کا سامان خاوند کا ہوتا ہے نہ کہ بیوی کی ملک۔

۶؎  اس سے دومسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ٹوٹا پیالہ بھی مال ہے،اس کی بیع و معاوضہ جائز ہے،کبھی تو یہ ٹھیکریاں جُڑ کر کام دیتی ہیں اور کبھی الگ الگ ہی کچھ کام دے جاتی ہیں۔دوسرے یہ کہ کسی کی چیز توڑ دینا بھی غصب کی ایک قسم ہے جب کہ یہ توڑنا زیادتی کی بناء پر ہو اور اس کا تاوان لازم ہے اسی لیے صاحب مشکوٰۃ یہ حدیث غصب کے باب میں لائے،جناب عائشہ صدیقہ کا یہ فعل صورۃً تعدی تھا لہذا یہ اعتراض نہیں پڑسکتا کہ صاحب مشکوٰۃ یہ حدیث باب الغصب میں کیوں لائے۔(مرقات)

2941 -[4]

وَعَن عبد الله بن يزِيد عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ نهى عَن النهبة والمثلة. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے عبداﷲ ابن یزید سے ۱؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور انور نے لوٹ مار کرنے اور ناک کان کاٹنے سے منع فرمایا ۲؎ (بخاری)

۱؎  آپ خَطَمی انصاری ہیں،صلح حدیبیہ میں آپ ۱۷ سال کے تھے،بیعت الرضوان میں شریک تھے،حضرت عبداﷲ ابن زبیر کے زمانہ میں انہی کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے اور انہی کے زمانہ میں وفات پائی،آپ سے آپ کے بیٹے موسیٰ اور آپ کے پوتے ابوبردہ ابن ابی موسیٰ وغیرہم نے روایات لیں،امام شعبی آپ کے کاتب رہے۔

۲؎ یعنی نہ تو کسی مسلمان کا مال لوٹنا جائز ہے اور نہ کسی انسان یا حیوان کے ناک کان زندگی میں یا بعد موت کاٹناجائز۔ اس سے معلوم ہوا کہ کٹی ہوئی پتنگ یا اس کی ڈور لوٹنا حرام ہے کہ یہ بھی نُھبہ ہے۔خیال رہے کہ لٹائی ہوئی چیز کا لوٹ لینا جائز ہے جیسے نکاح کے چھوہارے اور دُلہا دُلہن پر بکھیر کے پیسے کہ اسے عربی میں نثر کہتے ہیں نہ کہ نُھبہ،یوں ہی علاجًا و قصاصًا ناک کان کاٹنا جائز کہ وہ مثلہ نہیں بلکہ علاج یا قصاص ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیۡنَ بِالْعَیۡنِ"الخ۔اہل عرب جنگوں میں مقتولین کے ناک کان کاٹ ڈالتے تھے اور ایک دو مہمانوں کی آمد پر زندہ بکری کا ہاتھ یا پیر کاٹ کر پکالیتے تھے یہاں اس سے منع فرمایا گیا۔

2942 -[5]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ فَانْصَرَفَ وَقَدْ آضَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ: " مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ لَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ وَذَلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَكَانَ يسرق الْحَاج بمحجته فَإِن فطن لَهُ قَالَ: إِنَّمَا تعلق بمحجتي وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا ثُمَّ جِيءَ بِالْجَنَّةِ وَذَلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرَتِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أفعل ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں سورج گہن گیا جس دن کہ حضرت ابراہیم ابن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات پائی ۱؎  تو حضور نے لوگوں کو دو رکعتیں چھ رکوعوں اور چار سجدوں سے پڑھائی ۲؎ پھر فارغ ہوئے حالانکہ سورج اصلی حالت پر لوٹ چکا تھا فرمایا جن چیزوں کی تمہیں خبر دی گئی ہے ان میں سے کوئی چیز نہیں مگر میں نے اپنی اس نماز میں وہ سب دیکھ لیں ۳؎ حتی کہ آگ لائی گئی اور یہ جب تھا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹا ۴؎ اس خوف سے کہ اس کی لپٹ مجھے پہنچ جائے ۵؎  اور حتی کہ میں نے آگ میں تیرنے والے کو دیکھا جو اپنی آنتیں آگ میں کھینچ رہا ہے ۶؎ وہ اپنے نیزے سے حاجیوں کی چوری کرلیتا تھا اگر اس کی حرکت معلوم ہوجاتی تو کہہ دیتا تھا کہ یہ میرے نیزے سے لگ رہا اور اگر اس سے بے خبر رہی تو لے جاتا ۷؎ اور حتی کہ میں نے اس میں بلی والی کو دیکھا جس نے بلی کو باندھ رکھا کہ اسے کچھ نہ کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی ۸؎  پھرجنت لائی گئی اور یہ جب تھا کہ تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھا حتی کہ اپنی جگہ کھڑاہوگیا ۹؎  اور میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا میں چاہتا تھا کہ اس کے کچھ پھل لے لوں تاکہ تم انہیں دیکھو پھر رائے یہ ہی قائم ہوئی کہ ایسا نہ کروں ۱۰؎(مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن