دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۲؎ بعض نسخوں میں بجائے طَعَامُہٗ کے مُتَبَاعَہٗ ہے، اہلِ عرب اکثر اپنا سامان بالاخانوں پر رکھے تھے اس لیے بالاخانہ کا ذکر فرمایا ورنہ چوری تہہ خانہ سے بھی حرام ہے اور بالاخانہ سے بھی۔

۳؎ یعنی جیسے کسی کا مال بغیر اجازت اس کے گھر سے لینا حرام ہے ایسے ہی کسی کے جانور کا دودھ مالک کی اجازت کے بغیر دوہ لینا حرام ہے،یہ حدیث جمہور علماء کی دلیل ہے کہ کسی کا جانور بغیر اجازت نہ دوہے،ہاں مخمصہ یعنی سخت بھوک کی حالت میں اجازت ہے کہ اس طرح دوہ کو پی لے اور جان بچالے۔ہمارے امام صاحب  فرماتے ہیں اگر مردار بھی پائے اور غیر کا مال بھی تو مردار کھاکر جان بچالے اور غیر کے مال کو ہاتھ نہ لگائے۔(مرقات)امام محمد و اسحاق کے ہاں دوسرے کا جانور بغیر اجازت دوہ لینا جائز ہے ان کی دلیل حدیث ہجرت ہے کہ صدیق اکبر نے بحالت سفر ایک قریش کے غلام سے اس کی بکری کا دودھ دوہلوایا اور خریدکر حضورکو پلایا،حالانکہ بکری کا مالک وہاں موجود نہ تھا،نیز بعض روایات میں ہے کہ جوکسی کی بکری پائے وہ تین بار آواز دے کہ کس کی بکری ہے میں دودھ دوہتا ہوں اگر تین آوازوں میں مالک نہ ملے تو دوہ لے اور پی لے مگر یہ دلیلیں کمزور ہیں کیونکہ پہلی حدیث کے مطابق کہا جاسکتا ہے کہ اس غلام کو دودھ بیچنے کی مالک کی طرف سے اجازت تھی اور یہ دوسری حدیث مخمصہ کی حالت کے لیے ہے جب کہ بھوک سے جان نکل رہی ہو،ورنہ غیر کا مال بغیر اجازت لینا کس طرح درست ہوسکتا ہے،یوں ہی کسی کے باغ کے پھل اس کی اجازت کے بغیر نہ توڑے نہ کھائے،نہ اٹھائے نہ لے جائے۔جن احادیث میں اجازت ہے کہ کھائے مگر لے نہ جائے وہاں بھی مخمصہ کی حالت مراد ہے کہ بھوکے کی جان پر بن گئی ہے وہ یہ کھاکر جان بچائے،ہاں جنگلی پھل کسی کی ملک نہیں جیسے کوکن بیر وہ شکار کے جانور کی طرح کسی کی ملک نہیں جوچاہے کھائے۔(ازلمعات واشعہ مع زیادۃ)اس کی تحقیق کتب فقہ میں دیکھئے۔

2940 -[3]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتِ الَّتِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهَا يَدَ الْخَادِمِ فَسَقَطَتِ الصَّحْفَةُ فَانْفَلَقَتْ فَجَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِلَقَ الصَّحْفَةِ ثُمَّ جَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ الَّذِي كَانَ فِي الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ: «غَارَتْ أُمُّكُمْ» ثُمَّ حَبَسَ الْخَادِمَ حَتَّى أُتِيَ بِصَحْفَةٍ مِنْ عِنْدِ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتُهَا فَدَفَعَ الصَّحْفَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ صَحْفَتُهَا وَأَمْسَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنی بعض بیویوں کے پاس تھے کہ امہات المؤمنین میں سے کسی نے ایک پیالہ بھیجا ۱؎ جس میں کچھ کھانا تھا تو جس کے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تشریف فرما تھے انہوں نے خادم کے ہاتھ مارا جس سے پیالہ گر کر ٹوٹ گیا ۲؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے پیالے کے ٹکڑے جمع کیے پھر جوکھانا پیالے میں تھا اس میں ڈالا ۳؎ اور آپ فرماتے جاتے تھے کہ تمہاری ماں غیرت کر گئیں ۴؎ پھر خادم کو روک لیا حتی کہ جن کے گھر میں حضور تھے ان کے پاس سے پیالہ لایا گیا تو جن کا پیالہ ٹوٹ گیا تھا انہیں درست پیالہ دے دیا ۵؎ اور ٹوٹا ہوا پیالہ توڑنے والی کے گھر میں رکھ دیا ۶؎(بخاری)

۱؎ بعض بیویوں سے مراد حضرت عائشہ صدیقہ ہیں جیسا کہ دوسری روایتوں میں ہےیا تو حضرت انس ان کا نام بھول گئے یا احترامًا ان کا نام ظاہر نہ فرمایا،کھانا بھیجنے والی بی بی صفیہ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ حضرت زینب یا ام سلمہ ہوں،حضور کی بارگاہ میں اکثر و بیشتر ہدیے جب ہی آتے تھے جب کہ آپ حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر پر ہوتے۔(اشعہ و مرقات)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن