30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بے حجابی یہ کہ ہر ذرہ میں جلوہ آشکار اس پہ یہ پردہ کہ صورت آج تک نادیدہ ہے
یار تیرے حسن کو تشبیہ دوں کس چیز سے ایک تو ہی دیدہ ہے تیرے سوا نادیدہ ہے
یہاں مرقات نے فرمایا کہ دُون بمعنی غیر بھی آتا ہے اور بمعنی قریب بھی،یہاں دونوں معنے بن سکتے ہیں یعنی تیرے سوا کوئی حقیقی چھپا ہوا نہیں یا کوئی چیز چھپنے میں تجھ سے قریب بھی نہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ رب تعالٰی بصارت سے چھپا ہے اور بصیرت سے ظاہر یعنی نظر سے چھپنا فکر میں ظاہر۔
۸؎ قرض سے مراد مخلوق کا قرض ہے کیونکہ اس قرض سے بہت گناہ پیدا ہوتے ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ قرض رات کا غم اور دن کی ذلت ہے،فقیری سے مراد مخلوق کی محتاجی ہے یا اس سے دلی فقر مراد ہے جس کے متعلق فرمایا گیا کہ فقر کفر تک پہنچادیتا ہے لہذا یہ حدیث نہ اس آیت کے خلاف ہے"وَاللہُ الْغَنِیُّ وَاَنۡتُمُ الْفُقَرَآءُ" اور نہ اس حدیث کے مخالف الفقر فخری۔
|
2409 -[29] وَعَن أبي الْأَزْهَر الأيماري أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: «بسمِ اللَّهِ وضعْتُ جَنْبي للَّهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَاخْسَأْ شَيْطَانِي وَفُكَّ رِهَانِي وَاجْعَلْنِي فِي النَّدِيِّ الْأَعْلَى» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابو ازہر انماری سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کو اپنی خوابگاہ قبول فرماتے ۱؎ تو کہتے اﷲ کے نام پر اﷲ کے لیے میں نے اپنی کروٹ رکھ دی ۲؎ الٰہی میرے گناہ بخش دے اور میرے شیطان کو دور فرمادے میرا رہن چھوڑا دے ۳؎ اور مجھے اعلٰی مجلس میں داخل فرما ۴؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یعنی یہ دعا رات کے آرام کی ہے نہ کہ دوپہر کی۔
۲؎ محض آرام کے لیے،مؤمن کا جاگنا،سونا،جینا،مرنا اﷲکے لیے چاہیے "وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ" بعض نسخوں میں اﷲ نہیں ہے۔
۳؎ میرے گناہ سے مراد یا تو میری امت کے گناہ ہیں یا خطائیں مراد ہیں یا یہ لفظ ہماری تعلیم کے لیے ورنہ حضور گناہوں سے معصوم ہیں۔شیطان سے مراد انسانی شیطان ہیں یا قرین شیطان ہے،رب تعالٰی نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی کہ آپ کا قرین شیطان مؤمن ہوگیا۔اخساخساءٌ سے بنا بمعنی کتے کو دُرکا رنا،رہن گروی چیز کو کہتے ہیں یہاں مراد اپنی ذات ہے کیونکہ انسان کی ذات اپنے اعمال میں گروی ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:"کُلُّ امْرِیًٔۢ بِمَا کَسَبَ رَہِیۡنٌ"یعنی مجھے نیک اعمال کی توفیق دے کر میرے نفس کو گروی ہونے سے چھوڑا دے۔
۴؎ ندیٰ مجلس کو بھی کہتے ہیں اور مجلس والوں کو بھی یہاں مجلس مراد ہےاور اعلٰی مجلس سے مراد قرب الٰہی غیر شناختی ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم تمام خلق سے اعلٰی ہیں ان سے اعلٰی مجلس والا کون ہوگا اور حضور کی مجلس والے صحابہ تمام مجلس والوں سے افضل ہیں اس جملہ کے اور بھی معنے کیے گئے ہیں مگر یہ معنے زیادہ مناسب ہیں یا یہ دعا ہماری تعلیم کے لیے ہے تو ندیٰ سے مراد مجلس والے ہیں یعنی خداوند مجھے ملائکہ،انبیاء،اولیاء کا مجلس والا بنا۔
|
2410 -[30] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي وَأَطْعَمَنِي وَسَقَانِي وَالَّذِي مَنَّ عَلَيَّ فَأَفْضَلَ وَالَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کو بستر اختیار فرماتے تو فرماتے شکر ہے اس اﷲ کا جو میرے لیے کافی ہوا اور جس نے مجھے کھلایا اور پلایا اور جس نے مجھ پر احسان پھر فضل کیا ۱؎ اور جس نے مجھے دیا تو بہت زیادہ دیا۲؎ ہر حال میں اﷲ کا شکر ہے ۳؎ اے اﷲ ہر چیز کے رب اور بادشاہ اے ہر چیز کے معبود میں آگ سے تیری پناہ لیتا ہوں ۴؎ (ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع