30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ یعنی ہم سمجھتے تھے کہ کوئی آسمانی وبال یا مصیبت فوری آنے والی ہے تو ایک دن ورات بہت فکر وتردد میں گزرا مگر خدا کا شکر ہے کوئی آفت نہ آئی۔
۶؎ یعنی کوئی وبال یا غیبی آفت نہ تھی بلکہ قرض کی سختی ہے جو مقروض پر ہوگی۔
۷؎ یقضی کی دو قرأتیں ہیں:معروف و مجہول یعنی خود مقروض ادا کرے یا اس کے ورثا اس کی طرف سے ادا کریں۔ معلوم ہوا شہادت جیسی عبادت سے بھی قرض معاف نہیں ہوتا۔وہ جو روایت میں ہے کہ حج سے قرض بھی معاف ہوجاتا ہے،وہاں ادائے قرض کی بے اعتدالیاں مراد ہیں یعنی ادائے قرض میں جو مقروض کی طرف سے وعدہ خلافی،ٹال مٹول ہوجاتی ہے وہ معاف ہوجائے گی ورنہ قرض ادا کرکے حج کو جانا چاہیے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع