دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

(مرقاۃ)معلوم ہوا کہ مقروض دلی تنگی سے قرض ادا نہ کرے بلکہ خوش دلی سے دے اور دعائیں بھی دے کہ قرض خواہ نے قرض دے کر اس پر مہربانی کی۔

2927 -[29]

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَمَنْ أَخَّرَهُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جس کا کسی شخص پر کوئی حق ہو وہ اسے مہلت دے دے تو اسے ہر دن کے عوض صدقہ کا ثواب ہوگا ۱؎ (احمد)

۱؎  حق میں قرض،دَین،مکان،دکان کا کرایہ،اپنے کام کی اجرت تمام حقوق داخل ہیں۔من فرما کر یہ اشارہ لیا کہ جو بھی مہلت دیدے  یا دلوادے یا مہلت کا سبب بن جائے اسے ہر دن صدقہ کا ثواب ہے مثلًا یکم تاریخ کو کرایہ دار پر کرایہ ادا کرنا لازم ہےکسی نے سفارش کرکے اسے دو چار دن کی مالک مکان سے مہلت دلوادی کہ یہ تو بیچارہ غریب ہے ابھی اس کے پاس نہیں ہے،کچھ مہلت دے دو تو مالک مکان کو بھی اور اس سفارشی کو بھی ان دو چار دنوں میں ہر دن اتنے روپے خیرات کرنے کا ثواب ملے گا۔اس لیے اعلٰی حضرت قدس سرہ نے فرمایا کہ صدقہ دینے سے قرض دینا پھر مہلت دینا افضل ہے۔صدقہ تو غیر حاجت مند بھی لے لیتے ہیں مگر قرض حاجت مند ہی لیتا ہے۔

2928 -[30]

وَعَن سعد بن الأطول قَالَ: مَاتَ أَخِي وَتَرَكَ ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ وَتَرَكَ وَلَدًا صِغَارًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن أخلك مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ فَاقْضِ عَنْهُ» . قَالَ: فَذَهَبْتُ فَقَضَيْتُ عَنهُ وَلم تبْق إِلَّا امْرَأَةٌ تَدَّعِي دِينَارَيْنِ وَلَيْسَتْ لَهَا بَيِّنَةٌ قَالَ: «أعْطهَا فَإِنَّهَا صَدَقَة» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت سعد ابن اطول سے فرماتے ہیں میرا بھائی وفات پا گیا اوراس نے تین سو اشرفیاں چھوڑیں اور چھوٹے بچے چھوڑے میں نے چاہا کہ ان پر خرچ کروں ۱؎ تو مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارا بھائی قرض میں گرفتار ہے ان کا قرض ادا کرو ۲؎  فرماتے ہیں میں چلا اور ان کا قرض ادا کردیا پھرمیں نے حاضر ہو کر عرض کیا یارسول اﷲ میں نے بھائی کا سارا قرض ادا کردیا ۳؎ کچھ باقی نہ رہا ہاں ایک عورت دو اشرفیوں کا دعوی کرتی ہے اور اس کے پاس گواہ ہے نہیں فرمایا اسے دے دو وہ سچی ہے ۴؎(احمد)

۱؎ اسی طرح کہ قرض خواہوں کو کچھ نہ دوں سب اس کے بچوں پر ہی خرچ کروں یا پہلے بچوں پر خرچ کروں ان کے جوان ہونے پر اگر کچھ بچے تو قرض خواہوں کو دوں،عرب میں اس قسم کی بے قاعدگیوں کا عام رواج تھا۔

۲؎ یعنی پہلے قرض دو اس سے جو بچے وہ محروم کے بچوں پر خرچ کرو۔اب بھی حکم یہ ہی ہے کہ ادائے قرض میراث سے پہلے ہے۔اولًا کفن دفن،پھر ادائے قرض،پھر تہائی مال سے وصیت کا اجراء پھرتقسیم میراث اس کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔

۳؎ یعنی جن کے قرضوں کا ثبوت گواہی وغیرہ سے تھا وہ تو ادا کردیا اس میں سے ایک پیسہ باقی نہ بچا۔

۴؎ غالبًا حضور انور کو اس بی بی کی سچائی وحی سے معلوم ہوئی اس لیے جیسے اور وحی کی اتباع مسلمانوں پر لازم ہے ایسے ہی اس وحی کی اتباع بھی لازم ہے ورنہ حاکم اپنے خصوصی علم پر مقدمہ کا فیصلہ نہیں کرسکتا گواہی و شہادت پر ہی فیصلہ کرے گا۔(مرقات)یہ حدیثیں باب الافلاس میں اس لیے لائی گئیں کہ ان سے دیوالیہ کے احکام میں مدد ملتی ہے ورنہ ان میں دیوالہ کا ذکر نہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن