30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے پائجامہ خریدنا تو ثابت ہےمگر پہننا ثابت نہیں ہمیشہ تہبند شریف استعمال فرمایا، حضرت عثمان غنی شہادت کے دن پائجامہ پہنے ہوئے تھے،پائجامہ ہی میں آپ کی شہادت ہوئی،بھاؤ چکانے کا مطلب یہ ہے کہ بھاؤ طے کرکے خرید لیا۔ (مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خود دوکان پر جانا اور تاجر کی منہ مانگی قیمت نہ دینا بلکہ اس سے طے کرنا کچھ کم کرانا سنت ہے، اگرچہ اپنے خدام سے ہی خرید کی جائے اس بھاؤ تاؤ کرنے میں عار نہیں،حضور انور کے زمانہ شریف میں پائجامہ کا استعمال ہوتا تھا۔
۳؎ چونکہ اس زمانہ میں نوٹ تو تھے نہیں درہم کا عام رواج تھا جن کے گننے میں بہت وقت لگتا ہے اس لیے تول کر ادا کئے جاتے تھے، درہم تولنے والا تاجر کی طرف سے مقرر ہوتا تھا جس کی اجرت(تولائی)خریدار کے ذمہ ہوتی تھی،اب بھی حکم یہ ہی ہے کہ قیمت کی تولائی خریدار کے ذمہ،مال کی تولائی بائع کے ذمہ ہے کہ قیمت دینا خریدار پر لازم ہے اور مال دینا بائع پر ضروری ہے۔تولنے والا جس کا کام کرے،اس سے دام لے۔آج کل مال کی تولائی خریدار سے لیتے ہیں یہ غلط ہے۔
۴؎ یعنی جو قیمت طے ہے اس سے زیادہ دے دو،یہ کرم کریمانہ ہے کہ طے شدہ سے زیادہ قیمت عطا کی،مہنگی خریدنے میں نقصان ہے، طے شدہ سے زیادہ دینے میں احسان۔نقصان برا،احسان اچھا۔
۵؎ اسے نسائی،ابن حبان اور حاکم نے اپنی مستدرک میں نقل فرمایا۔(مرقات)
|
2925 -[27] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر میرا کچھ قرض تھا تومجھے عطا فرمایا اور زیادہ دیا ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ غالبًا یہ وہ ہی واقعہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مدینہ منورہ کے راستے میں ان کا تھکا ہوا اونٹ خریدا،اس کی قیمت مدینہ منورہ میں تشریف لاکر مرحمت فرمائی اور اونٹ بھی دے دیا اور قیمت بھی زیادہ عطا کی،چونکہ یہ زیادتی عقد میں مشروط نہ تھی اس لیے سود نہیں بلکہ انعام اور کرم خسروانہ ہے۔اس کی تحقیق شروع باب میں ہوچکی جہاں یہ قصہ مذکور ہوا۔
|
2926 -[28] وَعَن عبد الله بن أبي ربيعَة قَالَ: اسْتَقْرَضَ مِنِّي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَجَاءَهُ مَالٌ فَدَفَعَهُ إِلَيَّ وَقَالَ: «بَارَكَ اللَّهُ تَعَالَى فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْحَمْدُ وَالْأَدَاءُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن ابی ربیعہ سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی کریم نے چالیس ہزار قرض لیے ۱؎ پھر آپ کے پاس مال آیا ۲؎ تو مجھے ادا فرمادیا اور فرمایا اﷲ تعالٰی تمہارے گھر بار اور مال میں برکت دے قرض کا عوض شکریہ اور ادا ہے ۳؎(نسائی) |
۱؎ چالیس ہزار درہم قرض لیے۔غالبًا کسی جہاد میں لشکر پر خرچ کے لیے قرض لیے ہوں گے ورنہ اتنے بڑے قرض کی حضور انور کو ذاتی خرچ کے لیے ضرورت نہ تھی۔الحمدﷲ! ابھی مرقات میں نظر پڑی کہ یہ قرض غزوہ حنین کے لیے لیا گیا تھا فقیر کا خیال درست نکلا اور یہ رقم درہم تھی۔
۲؎ یا کسی جہاد سے مال غنیمت آیا خراج وغیرہ تھا مال بہت آیا تھا۔
۳؎ اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ قرض پورا ادا کرے زیادہ نہ دے کیونکہ اِنَّمَا حصر کے لیے آتا ہےلیکن یہاں وجوب ولزوم کا ذکر ہے کہ مقروض پر ادا اور دعا دونوں لازم ہیں۔رہی زیادتی وہ مقروض کی مہربانی ہے لہذا یہ حدیث زیادہ دینے کی احادیث کے خلاف نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع