دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۴؎ کہ ہمار ا قرض ادا کرایا جائے۔معلوم ہوا کہ قرض خواہوں کا کچہری میں مقروض پر دعویٰ کرنا حاکم سے فریاد کرنا درست ہے،اس کی اصل یہ ہی حدیث ہے۔

۵؎ یہ حدیث مختصر ہے،اولًا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت معاذ کو قرض ادا کرنے کا حکم دیا،انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس روپیہ بالکل نہیں،پھر انکی رضا سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا مال نیلام فرمادیا یا فروخت کردیا، اب بھی اس پر ہی عمل ہے،ہاں اگر مقروض نہ تو ادائے قرض کرے،نہ اپنا مال فروخت کرے تب حاکم اسے قید کر دے تاکہ وہ اپنا مال خود فروخت کرے قرض ادا کرے یا حاکم کو فروخت کی اجازت دے،جبرًا حاکم اس کا مال فروخت نہیں کرے گا۔(مرقات)بعض صورتوں میں قرض خواہوں کے مطالبہ پر حاکم خود بھی فروخت کرسکتا ہے اور دیوالیہ و محجور بھی کرسکتا ہے کہ اعلان کردے کوئی اس سے لین دین نہ کرے یہ دیوالیہ ہے۔(حاشیہ مشکوٰۃ)

۶؎ یعنی یہ حدیث صحاح ستہ وغیرہ کتب حدیث میں نہیں صرف ابن تیمی حنبلی کی کتاب منتقیٰ میں ہے۔صاحب مشکوۃ کا مقصد یہ ہے کہ میری تلاش میں کمی ہے کہ مجھے کتب اصول میں یہ حدیث نہ ملی ان میں ہے ضرور،اگر نہ ہوتی تو منتقیٰ میں نہ ہوتی لہذا یہ مصابیح پر اعتراض نہیں بلکہ دفع اعتراض ہے۔خیال رہے کہ ہم احناف کے ہاں مرسل حدیث قبول ہے،جیسا کہ کتب اصول میں مصرح ہے۔

۷؎ یعنی حضرت معاذ کی سخاوت کا یہ حال تھا کہ اپنی آمدنی میں سے تو کیا بچاتے ساری آمدنی خیرات صدقے ہدایا میں خرچ کرکے اور قرض بھی لیتے رہے،دعوتیں،ہدیے،صدقے خیرات کرتے رہے۔

۸؎ یہاں مال سے مراد روپیہ پیسہ نہیں بلکہ جائیداد اور گھر کا سامان،سواری کے جانور وغیرہ ہیں کہ اگر روپیہ پیسہ ہوتا تو ان چیزوں کے فروخت کی کیا ضرورت پڑتی۔خیال رہے کہ قرض اولًا روپیہ پیسہ سے ادا کیا جاتا ہے،پھر منقولہ سامان فروخت کرکے،پھرغیرمنقولہ جائیداد،پھر رہنے کا سامان فروخت کرکے۔

۹؎ یا تو یہ سارا یا کچھ قرض معاف کرادیں یا قرض خواہوں کو صبر کی سفارش فرمادیں کہ ابھی کچھ اور مہلت دے دیں،مطالبہ قرض جلدی نہ کریں،لیکلّم میں سب چیزیں داخل ہیں۔

۱۰؎ یعنی قرض خواہوں نے حضور انور کی سفارش بھی نہ مانی نہ تو قرض ہی معاف کیا،نہ مہلت ہی دی۔خیال رہے کہ حضور انور نے قرض خواہوں سے سفارش فرمائی تھی،حکم نہ دیا تھا اور پیغمبر کی سفارش یا مشورہ ماننا بہتر ہے واجب نہیں،حکم ماننا واجب ہے اس مشورہ کے نہ ماننے سے حضرت معاذ کو بالکل مایوسی ہوگئی کہ جب قرض خواہوں نے حضور انور کی سفارش نہ مانی تو اب کس کی مانیں گے،تب وہ عمل ہوا ہو آگے مذکور ہے۔

۱۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ حاکم دیوالیہ کا سارا مال منقولہ فروخت کرے اس کا قرض ادا کردے گا کوئی چیزحتی کہ رہنے کا مکان بھی نہ چھوڑے گا۔آج کل  حکام کبھی مقروض کا رہائشی مکان وہ بھی مختصر سا چھوڑ دیتے ہیں،یہ بھی کسی بڑے ساہوکار دیوالیہ کے لیے ورنہ سب ہی نیلام یا فروخت کردیتے ہیں۔ خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ عمل بیان قانون کے لیے تھا اور حضرت جابر کے والد کا قرض بطور معجزہ تمام ادا کرادینا کہ تھوڑی کھجوروں سے سارا قرض ادا ہوگیا پھر ایک کھجور بھی کم نہ ہوئی یہ کرم کریمانہ تھا،اگر یہاں قانون پر عمل نہ ہوتا تو بعد کے لوگوں کو یہ احکام کیسے معلوم ہوتے،لہذا حدیث پاک پر اعتراض نہیں کہ یہاں بھی حضرت جابر کی طرح قرض ادا کیوں نہ کرا دیا گیا۔ دیکھو بعض سائلوں کا حضور انور نے کمبل وپیالہ نیلام کرکے انہیں کام پر لگادیا اور بعض سائلوں کو عطیے دے کر غنی کردیا،جلوے مختلف ہیں۔

2919 -[21]

وَعَنِ الشَّرِيدِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ» قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُحِلُّ عِرْضَهُ: يُغَلَّظُ لَهُ. وَعُقُوبَتَهُ: يُحْبَسُ لَهُ.رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت شرید سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مال والے کا ٹال مٹول اس کی آبرو کو اس کی سزا کو درست کردیتا ہے ۲؎ ابن مبارک نے فرمایا آبرو حلال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے سخت کلامی کرے اور سزا یہ ہے کہ اسے قید کردیا جائے ۳؎(ابوداؤد،نسائی)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن