دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

کا قرض ادا کیا،زرہ چھڑائی،اگر یہ بھی نہ ہو تو بروز قیامت رب تعالٰی یسے مقروض کا قرض اس کے قرض خواہ سے معاف کرادے گا یا قرض خواہ کو قرض کے عوض جنت کی نعمتیں بخش دے گا،بہرحال حدیث واضح ہے۔اس پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور انور پر قرض کیوں رہ گیا تھا،وہ رب نے کیوں ادا نہ کرایا کہ حضرت صدیق کا ادا کرنا رب تعالٰی ہی کی طرف سے تھا اور نہ یہ اعتراض ہے کہ بعض مقروضوں کے قرض قیامت میں رب تعالٰی ادا یا معاف کرادے گا جیساکہ احادیث میں ہے۔

2911 -[13]

وَعَن أبي قَتَادَة قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقبلا غير مُدبر يكفر اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» . فَلَمَّا أَدْبَرَ نَادَاهُ فَقَالَ: «نَعَمْ إِلَّا الدَّيْنَ كَذَلِكَ قَالَ جِبْرِيلُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا رسول اﷲ فرمایئے اگر میں اﷲ کی راہ میں صبر کرتے اور طلب اجر کرتے پیچھے ہٹتے نہیں بلکہ آگے بڑھتا مارا جاؤں تو کیا اﷲ میری خطائیں مٹادے گا ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں۲؎ جب وہ شخص چل دیا تو اسے پکارا اور فرمایا ہاں قرض کے سواء حضرت جبرائیل نے یوں ہی کہا ہے ۳؎(مسلم)

۱؎ یعنی میں بحالت جہاد صابر بھی ہوں،بہادربھی،غازی بھی اور آخر میں شہید بھی کیا اتنی صفات جمع ہونے پر میرے گناہ معاف ہوں گے یا نہیں۔

۲؎ یعنی ہاں تیرے سارے اگلے پچھلے صغیرہ کیبرہ گناہ معاف ہوں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ غازی شہید تمام گناہوں سے پاک و صاف ہوجاتا ہے۔

۳؎ یعنی اے شخص میرے فرمان کا مطلب غلط نہ سمجھنا ان تمام صفات سے گناہ معاف ہوں گے نہ کہ حقوق خصوصًا حقوق العباد وہ تو ادا کرنے سے ہی معاف ہوں گے،مجھے جبریل امین نے ابھی توجہ دلائی کہ تجھے یہ سمجھا دوں کہ تو میرا کلام غلط نہ سمجھے۔فقیر کی اس شرح سے بہت سے سوالات اُٹھ گئے،نہ یہ اعتراض پڑسکتا ہے کہ قرض گناہوں میں داخل ہی نہ تھا قرض تو حضور نے بھی لیا ہے پھر اس کے استثناء فرمانے کی کیا ضرورت تھی،نہ یہ کہ حضور انور کو تبلیغ کرنا نہ آتا تھا اس لیے جبریل امین نے تبلیغ کرنا سکھایا،نہ یہ کہ حضور انور نے پہلے اسے مسئلہ غلط کیوں بتلایا،تبلیغ میں غلطی تو شانِ نبوت کے خلاف ہے وغیرہ وغیرہ۔خیال رہے کہ یہاں نفس قرض کی معافی کا ذکر ہے جو جہاد و شہادت سے بھی نہیں ہوتی اور حج کے بیان میں قرض میں ٹال مٹول،جھوٹے وعدے،وقت پر ادا نہ کرنا مراد ہے جیسے بخشش کا وعدہ فرمایا گیا کہ حاجی کے قرض بھی معاف ہوجاتے ہیں یعنی قرض کے یہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جبریل امین نے قرآن کے علاوہ اوربھی چیزیں نازل فرمائی ہیں۔

2912 -[14]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كل ذَنْب إِلَّا الدّين» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا شہید کے سارے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں سوائے قرض کے ۱؎(مسلم)

۱؎ یہ استثناء منقطع ہے کیونکہ قرض لینا گناہ نہیں ورنہ انبیاء کرام خصوصًا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نہ لیتے اور ہوسکتا ہے کہ قرض سے مراد ناجائز قرض لینا ہو حرام رسوم میں خرچ کرنے کے لیے یا لوازم قرض مراد ہوں یا بلاعذر ٹال مٹول کرنا،وقت پر ادا نہ کرنا،جھوٹے وعدہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن