30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2908 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: «يَا كَعْبُ» قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «قُمْ فاقضه» |
روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے کہ انہوں نے مسجد میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا ۱؎ زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں تو ان کی آوازیں کچھ اونچی ہوگئیں حتی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے گھر سے سن لیں ۲؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ان کی طرف تشریف لائے حتی کہ اپنے حجرہ شریف کا پردہ اٹھایا اور حضرت کعب ابن مالک کو پکارا فرمایا اے کعب عرض کیا حضور (صلی اللہ علیہ و سلم) حاضر ہوں آپ نے اپنے ہاتھ شریف سے اشارہ کیا کہ آدھا قرض معاف کردو،حضرت کعب نے کہا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میں نے کردیا فرمایا اُٹھو اب ادا کردو۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ ان کا نام عبداﷲ ابن ابی حدرد ہے،کنیت ابو محمد،بیعت حدیبیہ اور غزوہ خیبر میں شریک تھے،مسجد سے مراد خارج مسجد ہے کہ داخل مسجد میں دنیاوی کلام ممنوع ہیں۔
۲؎ حضرت کعب نے کہا ہوگا کہ ابھی قرض دو،انہوں نے کہا ہوگا کہ میرے پاس ابھی نہیں،اس سے جھگڑا پیدا ہوگیا ہوگا جیسا کہ عمومًا تقاضے کے وقت ہوتا ہے۔
۳؎ سبحان اﷲ! کیا نفیس فیصلہ ہے کہ منٹوں میں مہینوں کا جھگڑا طے فرمالیا۔اس سے چند مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ قرض کی معافی کی صورت میں بقیہ قرض کی اداء فورًا ضروری ہے۔دوسرے یہ کہ حدود مسجد میں قرض کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔تیسرے یہ کہ معانی و رعایت کی سفارش کرنا جائز ہے۔چوتھے یہ کہ صلح کرانے والا فریقین کا لحاظ رکھےکہ کچھ اسے دبائے کچھ اسے۔پانچویں یہ کہ جائز سفارش قبول کرلینا بہتر ہے۔چھٹے یہ کہ اشارہ پر اعتماد کرسکتے ہیں کہ یہ کلام کے قائم مقام ہے دیکھو حضور انور نے آدھے قرض کا اشارہ ہی فرمایا۔ (مرقاۃ)
|
2909 -[11] وَعَن سَلمَة بن الْأَكْوَع قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالُوا: صَلِّ عَلَيْهَا فَقَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟» قَالُوا: لَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى فَقَالَ: «هَل عَلَيْهِ دين؟» قَالُوا: نعم فَقَالَ: «فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟» قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ فَصَلَّى عَلَيْهَا ثمَّ أُتِي بالثالثة فَقَالَ: «هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟» قَالُوا: ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ قَالَ: «هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «صلوا على صَاحبكُم» قَالَ أَبُو قَتَادَة: صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِي |
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس حاضر تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کیا اس پر نماز پڑھیے ۱؎ فرمایا کیا اس پر کچھ قرض ہے ۲؎ عرض کیا نہیں آپ نے نماز پڑھ لی پھر دوسرا جنازہ لایا گیا فرمایا کیا اس پر کچھ قرض ہے عرض کیا گیا ہاں،فرمایا کیا کچھ مال چھوڑا بھی ہے،عرض کیا تین اشرفیاں تو حضور نے اس پر نماز پڑھ لی ۳؎ پھر تیسرا جنازہ لایا گیا فرمایا کیا اس پر کچھ قرض ہے عرض کیا گیا تین اشرفیاں فرمایا کیا اس نے کچھ مال چھوڑا بھی ہے عرض کیا نہیں ۴؎ فرمایا اپنے یار پر تم ہی نماز پڑھو۔ابوقتادہ نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم آپ اس پر نماز پڑھیں اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے تب آپ نے نماز پڑھی ۵؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع