دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۱؎ یہ سختی کرنے والا قرض خواہ یا تو کوئی یہودی وغیرہ کافر ہوگا یا آداب سے ناواقف بدوی جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے احترام سے خبردار نہ تھے،وہ تو بغیر قرض بھی گفتگو میں بہت سختی کرتے تھے اور حضور انور تحمل فرماتے تھے،ورنہ صحابہ کرام سے یہ سختی ناممکن ہے۔ (لمعات و مرقات)

۲؎  مارپیٹ یا سخت جواب یا بارگاہ عالی سے نکال دینا چاہا۔

۳؎ یعنی قرض خواہ کو حق ہے کہ اگر مقروض غنی ہوکر ٹال مٹول کرے تواس کے خلاف دعوی کردے یا اسے ظالم خائن کہے یا کہے کہ تو نادہند بہانہ خور ہے۔خیال رہے کہ یہ قانون نادہند مقروضوں کے لیے ہے جو حضور انور نے اس موقع پر بیان فرمایا ورنہ حضور انور ان تمام ٹال مٹول وغیرہ سے معصوم ہیں۔

۴؎ یعنی جو اونٹ اس نے آپ کو قرض دیا تھا وہ کم عمر اور دبلا تھا،اب بازار سے ایسے دبلے کم عمر اونٹ نہیں ملتے اس سے اچھے موٹے رباعیہ مل رہے ہیں۔

۵؎  طبرانی،ابن حبان،حاکم،بیہقی نے حضرت زید ابن سعنہ سے روایت کی کہ میں یہود کے بڑے پادریوں میں سے تھا،میں نے حضور انور میں تمام علامات نبوت تو دیکھ لی تھیں دو کی آزمائش کرنا چاہتا تھا ایک حلم،دوسرے سختی کے جواب میں نرمی،میں نے حضور انور کو کچھ چھوہارے ادھار دیئے اور وقت اداء سے دو دن قبل تقاضا کرنے کے لیے آگیا،آپ کی چادر پکڑ کر نہایت سختی سے بولا کہ میرا قرض دو،بنی عبدالمطلب عمومًا نادہند ہوتے ہیں،جناب عمر فاروق نے فرمایا کہ اگر اس آستانہ کا ادب مانع نہ ہوتا تو یہ تلوار تیرے سر پر ہوتی،حضور انور نے فرمایا اے عمر بہتر ہوتا کہ تم مجھے قرض ادا کرنے کا مشورہ دیتے تم نے الٹا میرے محسن پر سختی کی،جاؤ ان کا قرض ادا کرو اور بیس۲۰ صاع زیادہ کھجوریں دے دو اس سختی کے عوض جو تم نے اس پر کی،میں نے کہا اے عمر میں نبوت کی دو علامتوں کا امتحان کررہا تھا،میں نے درست پالیں،میں پڑھتا ہوں لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ۔یہ تو قرض خواہ کا معاملہ ہے،آستانہ عالیہ پر بھیک مانگنے والوں نے سختی سے مانگا ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں عطائیں بھی دی ہیں اور دعائیں بھی،جیسا کہ بخاری،ابوداؤد،وغیرہ کی روایت میں ہے۔(مرقات)

2907 -[9] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ فَإِذَا أُتْبِعَ أحدكُم على مَلِيء فَليتبعْ»

روایت ہے ان ہی سے کہ رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا غنی کا ٹال مٹول ظلم ہے ۱؎  اور جب تم میں سے کسی کا قرض غنی پر حوالہ کیا جائے تو حوالہ قبول کرلے ۲؎(مسلم)

۱؎ یعنی جس مقروض کے پاس ادائے قرض کے لیے پیسہ ہو پھر ٹالے تو وہ ظالم ہے اسے قرض خواہ ذلیل بھی کرسکتا ہے اور جیل بھی بھجواسکتا ہے،یہ شخص مقروض گنہگار بھی ہوگا کیونکہ ظالم گنہگار ہوتا ہی ہے۔

۲؎ حوالہ کے معنی ہیں نقل ذمۃ الی ذمۃ یعنی اپنا قرض دوسرے کے ذمہ ڈال دینا۔اتبع باب افعال کا ماضی مجہول ہے یعنی تابع بنایا جائے،ملئٌ بمعنی غنی جس کی جیب مال سے بھری ہو،یہ امر استحبابی ہے یعنی اگر تمہارا مقروض تم سے کہے کہ میرا قرض فلاں سے وصول کرلینا اور وہ فلاں بھی قبول کرلے تو بہتر ہے کہ اس مقروض کا پیچھا چھوڑ دو اور اس غنی سے ہی وصول کرلو،تمہیں تو اپنے قرض سے غرض ہے۔

2908 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: «يَا كَعْبُ» قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «قُمْ فاقضه»

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے کہ انہوں نے مسجد میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا ۱؎  زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں تو ان کی آوازیں کچھ اونچی ہوگئیں حتی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے گھر سے سن لیں ۲؎  تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم  ان کی طرف تشریف لائے حتی کہ اپنے حجرہ شریف کا پردہ اٹھایا اور حضرت کعب ابن مالک کو پکارا فرمایا اے کعب عرض کیا حضور (صلی اللہ علیہ و سلم) حاضر ہوں آپ نے اپنے ہاتھ شریف سے اشارہ کیا کہ آدھا قرض معاف کردو،حضرت کعب نے کہا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میں نے کردیا فرمایا اُٹھو اب ادا کردو۳؎(مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن