30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2900 -[2] وَعَن أبي سعيد قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دينه فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ» فَتَصَّدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِك وَفَاء دينه فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ «خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِك» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں کچھ پھلوں میں جو اس نے خریدے تھے گھاٹے میں پڑگیا تو اس پر بہت قرض ہوگیا ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس پر صدقہ کرو لوگوں نے اسے صدقہ دیا مگر صدقہ اس کے ادائے قرض تک نہ پہنچ سکا ۲؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو پاؤ وہ لے لو ۳؎ تو تمہیں اس کے سواء کچھ نہ ملے گا ۴؎(مسلم) |
۱؎ یعنی اس نے بہت باغ والوں سے قرض پھل خریدے،پھر یا تو پھل یکدم ارزاں ہوگئے کہ ان کا بھاؤ بہت گر گیا یا پھل خراب ہوگئے دیوالیہ ہوگیا،ان کا قرض ادا نہ کرسکا،نہ اس کے مال کی قیمت سے ہی ان کا قرض ادا ہوسکتا تھا دیوالیہ اسی کو کہتے ہیں۔
۲؎ یعنی لوگوں نے اسے صدقات و خیرات بھی حتی الامکان دیئے مگر قرض اتنا زیادہ تھا کہ اس کا مال اور یہ صدقات مل کر بھی ادا نہ ہوسکتا تھا،صدقہ کا یہ حکم استحبابی تھا۔معلوم ہوا کہ دیوالیہ کو صدقہ دینا بہتر ہے،کسی مسلمان کی گردن چھوڑنا بہت ثواب ہے۔
۳؎ یعنی مقروض کی تمام املاک تجارتی مال،جائیداد،مکانات وغیرہ جو کچھ اس کی ملک و قبضہ میں ہے تم لوگ آپس میں بقدر حصہ تقسیم کرلو،اگر تمام املاک قرض کا نصف ہے تو ہر قرض خواہ اپنا آدھا قرض وصول کرے اگر قرض کا تہائی ہے تو ہر قرض خواہ اپنا تہائی قرض وصول کرے،یہ حضرت امام اعظم کی دلیل ہے کہ کوئی شخص مقروض کے قبضہ سے کسی خاص چیز پر قبضہ نہیں کرسکتا بلکہ قرض خواہوں کے ساتھ بقدر حصہ وصول کرے گا۔
۴؎ یعنی اس وقت زیادہ نہ ملے گا اور نہ تم مقروض کو قید و بند کرسکتے ہو،اسے مہلت دو جب اس کے پاس مال ہوجائے لے لو،یہ مطلب نہیں کہ اب تمہارا بقیہ قرض ملے گا ہی نہیں،مارا گیا یا معاف ہوگیا۔خیال رہے کہ اس مقروض کو قید کرایا جاسکتا ہے جس کے متعلق شبہ ہو کہ اس کے پاس مال تو ہے مگر چھپالیا ہے پھر جب اس کی ناداری معلوم ہوجائے تو اسے قید نہیں کیاجاسکتا۔
|
2901 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ رجل يدائن النَّاسَ فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا تجَاوز عَنهُ لَعَلَّ الله أَن يَتَجَاوَزُ عَنَّا قَالَ: فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ " |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایک شخص لوگو ں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکر کو اسے اس نے کہہ رکھا تھا ۱؎ کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے توا سے معاف کردے ۲؎ ہوسکتا ہے کہ اﷲ ہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہ اﷲ سے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ نوکر سے وہ نوکر مراد ہے جو مقروضوں سے تقاضا کرنے کو مقرر تھا جیسا کہ عام تجار ساہوکار ایسے لوگ رکھتے ہیں۔ فتی ساتھی کو بھی کہتے ہیں نوکرو غلام کو بھی،اس کے لغوی معنی ہیں جوان۔
۲؎ یا سارا قرض معاف کردے یا کچھ قرض یا مہلت دے دے کہ جلدی تقاضا نہ کرے،معافی میں یہ سب کچھ داخل ہے۔
۳؎ کہ اس کے سارے گناہ بخش دے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ غلام یا نوکر کو قرض وصول کرنے کا وکیل کرسکتے ہیں۔دوسرے یہ کہ وکیل کو معافی یا نرمی کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔تیسرے یہ کہ دعا میں جمع کے صیغے استعمال کرنا بہتر ہے کہ اس نے کہا تھا عنَّا کہ اگر ایک کے حق میں دعا قبول ہوگئی تو ان شاءاﷲ سب کے حق میں قبول ہوجائے گی،چوتھے یہ کہ گزشتہ دین کے احکام ہمارے لیے بھی قابل عمل ہیں جب کہ قرآن یا حدیث میں نقل ہوں۔(نووی،مرقات)پانچویں یہ کہ اپنے مقروض پر مہربانی کرنا اپنی بخشش کا ذریعہ ہے۔
|
2902 -[4] وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللَّهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ أَوْ يَضَعْ عَنْهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو چاہے اسے اﷲ تعالٰی روز قیامت کی تکالیف سے نجات دے ۱؎ تو چاہیے کہ وہ تنگدست کو مہلت دے یا معافی ۲؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع