30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دنیاوی تاثیر کفار سے صادر ہوجاتی ہے جیسے گالی کا برا اثر اور اچھے الفاظ کا دل پر اچھا اثر،بہرحال ہوتا ہے خواہ کافر کی طر ف سے ہو یا مؤمن کی طرف سے۔ لایحصیھما احصاءٌ سے بنا جس کے لغوی معنی تو ہیں شمار کرنا مگر اصطلاح میں حفاظت کرنے،طاقت رکھنے کے معنی میں آتا ہے خصوصًا جب کہ وہ چیز گنتی والی ہو یہاں اصطلاحی معنی مراد ہے۔
۲؎ اس میں غیبی خبر ہے کہ یہ عمل کچھ بھاری نہیں مگر بہت آسان ہے لیکن اس کی توفیق کم لوگوں کو ملے گی جیسے رب تعالٰی نماز کے متعلق فرماتا ہے: "وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیۡنَ"یہ نماز خاشعین کے سوا دوسروں پر گراں ہے،اس کا ظہور آج بھی ہورہا ہے کہ روزہ حج جو مشکل چیزیں ہیں لوگ خوشی و شوق سے کرتے ہیں حتی کہ بچے روزے کے لیے ضد کرتے ہیں مگر نماز کا پابند کوئی کوئی ہے،اسی طرح اس عمل کے پڑھنے والے اب بھی کم دیکھے جاتے ہیں،یہ ہے اس مخبر صادق کی سچی خبر صلی اللہ علیہ و سلم۔
۳؎ اس طرح کہ پہلے دس بار سبحان اﷲ کہے،پھر دس بار الحمدﷲ،پھر دس بار اﷲ اکبر،یہ نہ کرے کہ سبحان اﷲ والحمدﷲ اﷲ اکبر ملا کر دس بار کہے کہ یہ مقصد حدیث کے خلاف ہے۔
۴؎ اس طرح کہ ہر نماز کے بعد تیس ہوئے اور پانچ نمازیں ہیں تو تیس پنجہ ڈیڑھ سو ہوئے۔
۵؎ یعنی یہ کلمات روزانہ پڑھنے میں ڈیڑھ سو مگر ثواب میں ڈیڑھ ہزار کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے "مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"یہ تو ہے قانون اور فضل رب کا کوئی حساب نہیں۔
۶؎ یعنی سوتے وقت بستر پر لیٹنے سے پہلے سبحان اﷲ۳۳ بار الحمدﷲ۳۳ بار اور اﷲ اکبر۳۴ بار پڑھ لیا کرے۔واؤ ترتیب کے لیے نہیں لہذا اﷲ اکبر الحمدﷲ کے بعد پڑھے اور اس کا ذکر حمد سے پہلے ہے یہ ہی بزرگوں کا عمل ہے اور دوسری احادیث بھی اس کی تائید فرماتی ہے۔
۷؎ یہاں بھی وہ ہی حساب ہے کہ قانونًا ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے تو سو کلمات کا ثواب ہزار گنا ہوا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت میں وزن نیکی کے ثواب کا ہوگا نہ کہ محض الفاظ کا اسی لیے کفار کی نیکیاں بالکل وزنی نہ ہوں گی اور گناہ بہت بھاری،ان شاء اﷲ! مؤمن کی نیکیاں بقدر اخلاص وزنی ہوں گی اور گناہ کا یا تو وزن ہوگا ہی نہیں اگر ہوگا تو بہت ہلکا،رب تعالٰی کفار کی نیکیوں کے متعلق فرماتا ہے:"فَلَا نُقِیۡمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا"لہذا فی المیزان فرمانا بہت موزوں ہے۔
۸؎ یعنی یہ کلمات سارے مل کر پڑھنے میں تو ہوئے ڈھائی سو اور ثواب میں ہوئے ڈھائی ہزار اور ہر ایک کلمہ ایک ایک گناہ مٹاتا ہے، رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"۔چنانچہ ان کا مجموعہ ڈھائی ہزار گناہ مٹانے کے لیے کافی ہے اور بمشکل ہی کوئی مسلمان ایسا ہوگا جو ڈھائی ہزار گنا ہ روزانہ کرے،تو ان شاءاﷲ اب یہ کلمات خالص نفع ہی میں بچے،کچھ نے تو گناہ مٹائے اور جو گناہوں سے بچے انہوں نے درجے بڑھائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیکیاں ثواب کا باعث بھی ہیں اور گناہوں کی معافی کا ذریعہ بھی،داتا کی دین کے بہانے ہیں۔
۹؎ یہ سوال تعجب کے لیے ہے کہ یا حبیب اﷲ اتنا آسان عمل اور اتنے فائدے والا عمل کون چھوڑے گا اور کیوں چھوڑے گا،کیسے چھوڑے گا۔
۱۰؎ سبحان اﷲ! کیسا پیارا جواب ہے یعنی جب شیطان فرائض عبادات میں یوں خلل ڈال دیتا ہے تو یہ عمل تو ایک نفلی کام ہے اس سے کیوں نہ روکے گا،نماز کے بعد تمہیں ایسے کام یاد دلائے گا کہ تم مسجد سے جلد جانے کی کوشش کرو گے اور کہے گا کہ یہ عمل صرف نفلی ہی تو ہے اسے چھوڑ دو، فلاں کام چل کرکرو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع