30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تمام آئمہ کے دلائل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمائیے۔چنانچہ عمر ابن عبدالعزیز نے یہ سن کر اپنا پہلا فیصلہ واپس لے لیا اور اب یہ ہی فیصلہ کیا۔معلوم ہوا اگر قضاء قاضی حکم منصوص کے خلاف ہو تو ٹوٹ جائے گی۔
|
2880 -[6] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيِّ قَالَ: «الْبَيِّعَانِ إِذَا اخْتَلَفَا وَالْمَبِيعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَو يترادان البيع» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب بائع و خریدار جھگڑ پڑیں ۱؎ تو بائع کی بات معتبر ہے اور خریدار کو اختیار ہے ۲؎(ترمذی)اور ابن ماجہ و دارمی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ بائع و خریدار جب جھگڑ پڑیں اور چیز ویسی ہی موجود ہو اور ان کے درمیان گواہ کوئی ہو نہیں تو قول وہ ہی ہوگا جو بائع کہے یا دونوں بیع واپس کر لیں۳؎ |
۱؎ قیمت کی مقدار میں جھگڑیں یا خیار شرط میں ادھار قیمت کی مدت میں یا بیع کی صفت میں،غرضکہ کسی قسم کا جھگڑا پڑ جائے۔
۲؎ اس صورت میں خریدار اپنے دعویٰ پر گواہ لائے اگر اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو بائع قسم کھائے پھر حاکم خریدار کو اختیار دیدے کہ وہ خریدے یا نہ خریدے۔
۳؎ اس بارے میں ہمارا مذہب یہ ہے کہ اگر مبیع چیز موجود ہے اور قیمت میں اختلاف ہوگیا تو فیصلہ گواہی پر ہوگا اور اگر گواہی دونوں کے پاس ہو تو زیادتی قیمت کی گواہی مانی جائے گی اور اگر کسی کے پاس گواہی نہ ہو تو دونوں قسم کھائیں گے اور بیع فسخ ہوجائے گی اور اگر قیمت و مبیع دونوں میں جھگڑا ہے تو قیمت کے بارے میں بائع کی گواہی قبول ہوگی اور مبیع کے متعلق خریدار کی لیکن اگر مدت یا شرط خیار یا بعض قیمت پرقبضہ کرنے میں اختلاف ہوجائےتو قسم کسی پرنہیں۔ اس بارے میں جو مختلف احادیث مروی ہیں وہ صحیح نہیں لہذا اس حدیث مشہور پر اعتماد چاہیے کہ گواہ مدعی پر ہیں اور قسم منکر پر۔(اشعہ)
|
2881 -[7] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أقاله اللَّهُ عَثْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»بِلَفْظِ «الْمَصَابِيحِ» عَن شُرَيْح الشَّامي مُرْسلا |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو مسلمان کی فسخ بیع قبول کرے تو اﷲ قیامت کے دن اس کی غلطیاں معاف فرمادے گا ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)اور شرح سنہ میں مصابیح کے لفظ بطریق ارسال شرح شامی سے روایت کیے ۲؎ |
۱؎ یعنی اگر خریدو فروخت مکمل ہوچکنے کے بعد خریدار چیز واپس کرنا چاہے یا بائع وہ چیز واپس لینا چاہے تو اگرچہ انہیں یہ حق تو نہیں مگر فریق آخر کو چاہیے کہ اسے منظور کرے اور سامنے والے پر مہربانی کرے جس کے بدلہ میں پروردگار اس کی خطائیں اور غلطیاں معاف فرمائے گا۔
۲؎ مصابیح کے الفاظ یہ ہیں"مَنْ اَقَالَ مُسْلِمًا صَفْقَۃً کَرِھَھَا اَقَالَ اﷲُ عَشْرَتَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ"یہ مصنف مصابیح پر اعتراض ہے کہ انہوں نے یہاں ابوداؤد ابن ماجہ کی روایت متصل ہوتے ہوئے روایت مرسل کا ذکر کیا،متصل کو چھوڑ دیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع