30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2876 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قد أعيي فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ فَضَرَبَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَيْسَ يَسِيرُ مِثْلَهُ ثُمَّ قَالَ: «بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ» قَالَ: فَبِعْتُهُ فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ وَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ وَفِي رِوَايَةٍ فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِبِلَالٍ: «اقْضِهِ وَزِدْهُ» فَأَعْطَاهُ وَزَادَهُ قِيرَاطًا |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ آپ ایک اونٹ پر سفرکررہے تھے جو تھک گیا تھا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم گزرے تو اسے مارا تو وہ اونٹ ایسی رفتار سے چلنے لگا کہ ایسا کبھی نہ چلتا تھا ۱؎ پھر حضور نے فرمایا اسے میرے ہاتھ ایک اوقیہ میں بیچ دو ۲؎ میں نے بیچ دیا مگر اپنے گھر تک اس کی سواری کی شرط لگائی ۳؎ پھر جب میں مدینہ آیا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹ لایا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی قیمت کھری کردی اور ایک روایت میں ہے کہ اس کی قیمت عطا فرمائی اور اونٹ بھی واپس دے دیا ۴؎ (مسلم،بخاری)اور بخاری کی ایک روایت ہے کہ آپ نے حضرت بلال سے فرمایا کہ انہیں قیمت ادا کردو کچھ زیادہ بھی دے دو تو انہوں نے ایک قیراط زیادہ دیا ۵؎ |
۱؎ یہ حضور انور کا معجزہ ہے۔معلوم ہوا کہ ان کا ہاتھ بے زوروں کا زور ہے،بے سہاروں کا سہارا، اب بھی جس کمزور پر حضور نگاہ کرم فرما دیں وہ طاقتور ہوجائے۔شعر
تو مرا دل دہ و دلیری بیں روبہ خویش خوان وشیری بیں (اشعہ)
یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے تم دل بخشو پھر میری بہادری دیکھو،مجھے اپنی بلی بنالو پھر میری شیری دیکھو۔
۲؎ اُوقیہ الف کے پیش یا فتح سے،چالیس درہم کا ہوتا ہے مگر وقیہ بغیر الف کے کبھی اوقیہ کے ہم معنی ہوتا ہے اور کبھی سات مثقال کا۔ اس کی جمع وقایا ہے جیسے خطیئہ کی خطایا،اور اوقیہ کی جمع اواقی ہے جیسے اعجوبہ کی جمع اعاجیب۔اس سے معلوم ہوا کہ مال والے کو اس کا مال بیچنے کی رغبت دینا جائز ہے۔(مرقات)
۳؎ اس حدیث کی بنا پر امام احمد نے جانور کی بیع بالشرط جائز رکھی کہ بائع اس پر اپنے لیے سوار ہونے کی شرط لگاسکتا ہے،امام مالک کے ہاں تھوڑے فاصلہ تک سواری کی شرط لگانا جائز ہے کیونکہ اس موقعہ پر مدینہ طیبہ قریب تھا لیکن امام اعظم و شافعی کے ہاں یہ شرط مطلقًا ناجائز ہےکیونکہ دوسری احادیث میں بیع بالشرط سے ممانعت فرمائی گئی ہے۔اس حدیث کے متعلق ان دو بزرگوں نے چند باتیں فرمائیں:ایک یہ کہ یہ شرط داخل بیع نہ تھی بلکہ بعد بیع عاریۃً وہ اونٹ لیا گیا جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔دوسرے یہ کہ یہ شرط حضرت جابر نے پیش نہ کی بلکہ حضور انور نے بطور رعایت عطا فرمائی جیسے آج کل بعض تاجر کمیشن یا انعامی بونڈ پر چیزیں بیچتے ہیں کہ یہ شرطیں خود ا پنی طرف سے لگادیتے ہیں یا پوسٹ آفس(Post Office)کا محکمہ خطوط لفافے ٹکٹ اس شرط پر بیچتے ہیں کہ ہم مال منزل پر پہنچادیں گے۔تیسرے یہ کہ یہ صورۃً بیع تھی،حقیقتًا نہ تھی جیساکہ آگے رہا ہے کہ حضور انور نے حضرت جابر کو رقم بھی عطا فرمادی اور اونٹ بھی۔(لمعات و مرقات)
۴؎ اس جملہ نے اس تجارت کی نوعیت بتلادی کہ لفظ بیع شراء کے تھے مگر حقیقت عطا کی تھی۔
۵؎ قیراط آدھے دانق کو کہتے ہیں دانق تہائی درہم ہے لہذا قیراط درہم کا چھٹا حصہ ہوا،یہ قیراط حضرت جابر کو قیمت سے الگ دیا گیا تھا جسے حضرت جابر ہمیشہ اپنے پاس رکھتے تھے اور خرچ کرتے رہتے تھے حتی کہ یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں واقعہ حرہ کے موقعہ پر جب یزیدی فوج نے حضرت جابر کا مال لوٹا تو یہ قیراط بھی چھین لیا۔(مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ادائے قرض و ادائے حقوق کا وکیل بنانا بھی جائز ہے اور حق سے کچھ زیادہ دینا بھی جائز،یہ زیادتی سود نہ تھی سود کی نوعیت کچھ اور ہوتی ہے۔
|
2877 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبْتُ عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ وُقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عُدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ وَيَكُونُ وَلَاؤُكِ لِي فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذِيهَا وَأَعْتِقِيهَا» ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا أبعد فَمَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتَ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ فَقَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ آئیں بولیں کہ میں نو اوقیہ پر مکاتبہ ہوگئی ہوں ہر سال میں ایک اوقیہ ۱؎ آپ میری امداد فرمائیں تو حضرت عائشہ نے فرمایا اگر تمہارے مولٰی یہ پسند کریں کہ میں انہیں سارا روپیہ ایک دم گن دوں اور تمہیں آزادکروں اور تمہاری ولا میرے لیے رہے ۲؎ وہ اپنے مولاؤں کے پاس گئیں انہوں نے اس کا انکار کیا مگر یہ کہ ولاء ان کے لیے ہو۳؎ اس پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تم انہیں لے لو اور آزاد کردو۴؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کے مجمع میں قیام فرمایا اﷲ کی حمدوثناء کی ۵؎ پھر فرمایا بعد حمد وثناء کے لوگوں کا کیا حال ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اﷲ کی کتاب میں نہیں ہیں ۶؎ جو شرط بھی ایسی ہو جو اﷲ کی کتاب میں نہیں وہ باطل ہے،اگرچہ سو شرطیں ہوں ۷؎ لہذا اﷲ کا فیصلہ لائق عمل ہے اور اﷲ کی شرط بہت مضبوط ہے ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے ۸؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع