30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2405 -[25] وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَا من مُسْلِمٍ يَأْخُذُ مَضْجَعَهُ بِقِرَاءَةِ سُورَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ مَلَكًا فَلَا يَقْرَبُهُ شَيْءٌ يُؤْذِيهِ حَتَّى يَهُبَّ مَتَى هَبَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت شداد بن اوس ۱؎ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں جو بستر پر لیٹے قرآن شریف کی کوئی سورۃ پڑھ لے۲؎ مگر اﷲ تعالٰی اس پر فرشتہ مقرر فرمادیتا ہے پھر کوئی ایذا دہ چیز اس کے پاس نہیں پھٹکتی حتی کہ بیدار ہو جب بھی ۳؎ (ترمذی) |
۱؎ پہلے عرض کیا جاچکا کہ آپ حضرت حسان ابن ثابت کے بھائی ہیں،انصاری بڑے عالم و عابد تھے۔
۲؎ اس طرح کہ لیٹ کر سورت پڑھ کر لیٹے مگر یہ سورۃ کا پڑھنا لیٹنے کے ارادہ سے ہو۔ظاہر یہ ہے کہ سورۃ سے مراد پوری سورۃ ہے نہ کہ کسی سورۃ کی کچھ آیات جیسے فلق و ناس یا قل یا ایھا الکافرون وغیرہ بعض لوگ آیت الکرسی بھی پڑھ لیتے ہیں اور سورۃ کافرون بھی،یہ بہت ہی اچھا ہے۔
۳؎ بزاز نے حضرت انس سے روایت کیا ہے مرفوعًا کہ لیٹتے وقت سورۂ فاتحہ اور قل ھو اﷲ احد پڑھ کر سوؤ،رات بھر امن میں رہو گے۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ سورۂ بقر کی آخری تین آیات پڑھ کر سویا کرو محفوظ رہو گے۔
|
2406 -[26] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلَّتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ أَلَا وَهُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا ويكبِّرهُ عَشراً» قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ قَالَ: «فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ فِي اللِّسَان وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ وَإِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ يُسَبِّحُهُ وَيُكَبِّرُهُ وَيَحْمَدُهُ مِائَةً فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَمِائَةِ سَيِّئَةٍ؟» قَالُوا: وَكَيْفَ لَا نُحْصِيهَا؟ قَالَ: " يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صِلَاتِهِ فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا حَتَّى يَنْفَتِلَ فَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَفْعَلَ وَيَأْتِيهِ فِي مَضْجَعِهِ فَلَا يَزَالُ يُنَوِّمُهُ حَتَّى يَنَامَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: «خَصْلَتَانِ أَوْ خَلَّتَانِ لَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ» . وَكَذَا فِي رِوَايَتِهِ بَعْدَ قَوْلِهِ: «وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ» قَالَ: «وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ» وَيَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَيُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ".وَفِي أَكْثَرِ نُسَخِ المصابيح عَن: عبد الله بن عمر |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو خصلتیں ایسی ہیں کہ کوئی مسلمان آدمی انہیں اختیار نہیں کرتا مگر جنت میں ضرور جائے گا ۱؎ وہ ہیں تو آسان مگر ان پر عامل تھوڑے ہیں۲؎ ہر نماز کے بعد دس بار اﷲ کی تسبیح کہے،دس بار اس کی حمد کرے،دس بار تکبیر کہے ۳؎ راوی فرماتے ہیں پھر میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ نے عقد انامل فرما کر فرمایا کہ یہ زبان میں تو ڈیڑھ سو ہیں ۴؎ مگر میزان یعنی ترازو میں ڈیڑھ ہزار ہوں گے ۵؎ اور جب اپنا بستر لے تو سو بار تسبیح تکبیر اور حمد کرے ۶؎ تو یہ زبان میں ایک سو ہیں اور میزان میں ایک ہزار۷؎ بتاؤ تو تم میں سے کون ہے جو ایک دن و رات میں ڈھائی ہزار گناہ کرے۸؎ لوگوں نے عرض کیا کہ ہم ان کلمات کی کیوں نہ پابندی کریں گے ۹؎ فرمایا جب کوئی نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس پہنچ کر کہتا ہے فلاں بات یاد کرو فلاں بات یاد کرو حتی کہ نمازی کو باز رکھ دیتا ہے تو شاید وہ یہ عمل نہ کرسکے ۱۰؎ اور شیطان اس کے خوابگاہ پر پہنچ کر اسے سلاتا رہتا ہے حتی کہ وہ سوجاتا ہے ۱۱؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی)ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ فرمایا دو خصلتیں یا دو عادتیں ایسی ہیں جن کی کوئی بندہ مسلمان حفاظت نہیں کرتا۱۲؎ الخ اسی طرح ابوداؤد کی روایت میں اس کلام کے بعد کہ میزان میں ڈیڑھ ہزار میں یہ ہے کہ فرمایا ۳۴ بار تکبیر کہے جب اپنا بستر لے اور ۳۳ بار الحمدﷲ پڑھے اور ۳۳ بار سبحان اﷲ کہے ۱۳؎ اور مصابیح کے اکثر نسخوں میں عبداﷲ بن عمر سے روایت ہے۔ |
۱؎ ایسے مقامات میں رجل بمعنی آدمی ہوتا ہے نہ کہ بمعنی مرد لہذا یہ مطلب نہیں کہ مرد مسلمان تو یہ عمل کرے عورت مسلمہ نہ کرے بلکہ جو بھی کرے مرد یا عورت سب کو مفید ہے۔مسلم کی قید اس لیے لگائی گئی کہ کافر کا کوئی عمل وظیفہ نہ قبول ہے نہ باعث ثواب۔خیال رہے کہ بعض اعمال کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع