30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2871 -[38] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بالنقيع بِالدَّنَانِيرِ فآخذ مَكَانهَا الدارهم وأبيع بِالدَّرَاهِمِ فَآخُذُ مَكَانَهَا الدَّنَانِيرَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نقیع بازار میں اونٹ اشرفیوں کے عوض فروخت کرتا تھا ۱؎ پھر اشرفیوں کے عوض درہم لے لیتا تھا اور درہم کے عوض فروخت کرتا تھا پھر ان کے عوض اشرفیاں لے لیتا تھا ۲؎ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کا تذکرہ کیا آپ نے فرمایا اس میں مضائقہ نہیں کہ اس دن کے بھاؤ سے یہ لے لو جب تک کہ تم اس طرح الگ نہ ہو کہ تمہارے درمیان کچھ بقایا ہو۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی) |
۱؎ نقیع نون وق سے،مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ تھی جس میں بازار تھا اور میلہ لگا کرتا تھا اور ایک چرا گاہ کا نام بھی ہے جو مدینہ منورہ سے بیس کوس دور ہے،یہاں پہلے معنی مراد ہیں۔
۲؎ آپ کا یہ عمل اپنے اجتہاد سے تھا آپ نے خیال فرمایا کہ مثلًا درہم ایک دینار ہی ہے اور ایک دینار دس درہم ہی ہیں،درہم کے عوض دینار لینا گویا درہم ہی لینا ہیں۔معلوم ہوا کہ صحابہ کرام زمانہ نبوی میں حضور انور کے پاس رہتے ہوئے بھی اجتہاد کرتے تھے،یہ بھی معلوم ہوا کہ یقین پر قدرت ہوتے ہوئے بھی ظن پرعمل جائز ہے۔(مرقات)
۳؎ یعنی تمہارا یہ عمل دو شرطوں سے جائز ہے:ایک تو درہم و دینار کے موجودہ بھاؤ کا اعتبار ہوگا،ان کے بھاؤ بدلتے رہتے ہیں،ہمارے ہاں بھی ایک زمانہ میں اشرفی پندرہ بیس روپیہ کی تھی،پھر چڑھتے چڑھتے اسی نوے تک پہنچ گئی،دوسری شرط یہ ہے کہ فریقین دونوں بدلوں پر قبضہ کیے بغیر نہ ہٹیں کیونکہ اشرفی کے عوض چاندی کے درہم لینا یا اس کے برعکس بیع صرف ہے اور بیع صرف میں اگر جنسیں مختلف ہوں تو زیادتی جائز مگر ادھار حرام۔غرضکہ اس کو الگ بیع قرار دیا گیا اور اس پر بیع صرف کے احکام جاری کیے گئے۔
|
2872 -[39] وَعَنِ الْعَدَّاءِ بْنِ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ أَخْرَجَ كِتَابًا: هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْترى مِنْهُ عبدا أَو أمة لَا دَاءَ وَلَا غَائِلَةَ وَلَا خِبْثَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت عداء ابن خالد ابن ہوذہ سے ۱؎ انہوں نے ایک تحریر نکالی کہ یہ وہ ہے جو عداء ابن خالد ابن ہوذہ نے محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے خریدا حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے غلام یا لونڈی خریدی جس میں نہ کوئی عیب ہے نہ فساد نہ کوئی خرابی ۲؎ مسلمان کی مسلمان سے بیع۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۴؎ |
۱؎ آپ قبیلہ بنی ربیعہ سے ہیں،بصرہ کے دیہات میں رہتے تھے،غزوہ حنین کے بعد اسلام لائے،صحابی ہیں مگر آپ سے صرف یہی ایک حدیث منقول ہے۔
۲؎ یعنی اس میں نہ کوئی بیماری ہے جنون،جذام،برص وغیرہ اور نہ کوئی بری عادت زنا،چوری،شراب خواری وغیرہ نہ نفرت والی کوئی چیز جیسے حرامی ہونا وغیرہ۔غائلہ وہ عیب کہلاتا ہے جو کبھی ہلاکت کا باعث بن جائے۔خلاصہ یہ ہے کہ یہ غلام ظاہری اور چھپے ہوئے عیوب سے پاک ہے،اس میں کوئی ایسی خرابی نہیں ہے جس سے خریدار کو خیار غیب ہے۔اس تحریر میں اس جانب اشارہ ہے کہ خریدو فروخت اگرچہ ولی بلکہ نبی سے ہو اس پر شرعی احکام ضرور جاری ہوں گے اور اس قسم کی تحریر اس کی شان کے خلاف نہیں ہوگی،یہ بھی معلوم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع