30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2869 -[36] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ. رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روای فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک عقد میں دو فروختوں سے منع فرمایا ۱؎(شرح سنہ) |
۱؎ صفقہ کہتے ہیں ہاتھ مارنے یا ہاتھ ملانے کو،چونکہ اہل عرب بیع کے وقت تاجر سے ہاتھ ملاتے تھے اس لیے بیع کو بھی صفقہ کہہ دیتے ہیں یعنی ایک بیع کے ضمن میں دوسری بیع کرلینے سے منع فرمایا،اس کی دو صورتیں ابھی عرض کی گئیں۔(مرقات)
|
2870 -[37] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يضمن وَلَا بيع مَا لَيْسَ عِنْدَكَ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا صَحِيح |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہ تو ادھار اور فروخت جائز ہے ۱؎ اور نہ فروخت میں دو شرطیں جائز ۲؎ نہ اس کا نفع جائز جس کا ذمہ دار نہ ہو اور نہ وہ چیز بیچنا حلال جو تیرے پاس نہ ہو۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔ |
۱؎ اس کی دوصورتیں ہیں: ایک یہ کہ بائع خریدار سے کہتے ہیں تیرے ہاتھ یہ چیز سو روپے کے عوض فروخت کرتا ہوں بشرطیکہ تو مجھے دس روپے قرض بھی دے،یہ حرام ہے کہ ایک قسم کا سود ہے کیونکہ خریدار نے دس روپے قرض کے عوض میں اس چیز کے خریدنے کا نفع بھی حاصل کرلیا یا اس کے برعکس کہ قرض مانگنے والے سے ساہوکار کہے میں تجھے سو روپیہ اس شرط پر قرض دیتا ہوں کہ دس روپے میں اپنی بکری میرے ہاتھ فروخت کردے یعنی بیع میں قرض کی شرط ہو تو منع اور قرض میں بیع کی شرط ہو تب منع۔دوسرے یہ کہ ساہوکار قرض مانگنے والے سے کہے میں تجھے سو روپے قرض دیتا ہوں بشرطیکہ تم میری فلاں چیز اتنے میں خرید لو یعنی مہنگی اس میں بھی وہ ہی قباحت ہے کہ قرض کے ذریعہ نفع کما رہا ہے۔
۲؎ اس جملہ کی شرح میں بہت گفتگو ہے،بعض محدثین تو فرماتے ہیں کہ یہ جملہ پہلے جملہ کی تفسیر ہے یعنی سلف بیع کی،بعض نے فرمایا کہ دو کا ذکر اتفاقی ہے،بیع بالشرط مطلقًا منع ہے جیسا کہ بعض احادیث میں ہے کہ حضور انور نے بیع اور شرط سے منع فرمایا،ان کا خیال ہے کہ شرطان سے مراد دونوں قسم کی شرطیں ہیں یعنی نہ تو بائع خریدار پرکوئی شرط لگائے کہ یہ چیز تیرے ہاتھ فروخت کرتا ہوں بشرطیکہ دو ماہ تک اس کو میں ہی استعمال کروں گا یا تو مجھے اتنے روز کے لیے اپنا مکان عاریۃً یا کرایہ پر دے اور نہ خریدار تاجر پر کوئی شرط لگائے کہ کپڑا تو خریدتا ہوں بشرطیکہ تو مجھے سی کر یا دھوکر دے،یہ دونوں قسم کی شرطیں بیع کو فاسد کردیں گی جب کہ شرطیں خود فاسد ہوں۔شرط فاسد وہ کہلاتی ہے جسے بیع نہ چاہے،جسے خود بیع ہی چاہے وہ شرط صحیح ہے اس کی تجارت فاسد نہیں ہوتی جیسے تاجر کہے کہ چیز بیچتا ہوں بشرطیکہ تو مجھے روپے کھرے دے یا ابھی نقد دے یا خریدار کہے کہ خریدتا ہوں بشرطیکہ مال اصل ہو نقل نہ ہو وغیرہ۔
۳؎ یعنی جو چیز تیرے قبضہ میں نہ ہو اس کا بیچنا بھی ممنوع ہے اور جس چیز کا تو ابھی مالک نہ بنا اس کی فروخت بھی منع۔مالم یضمن سے مراد جو اپنے ضمان و قبضہ میں نہ آئی جیسے ہم کوئی چیز خریدیں اور بغیر قبضہ کیے فروخت کردیں،یہ منع ہے اس کی شرح گزرچکی۔
|
2871 -[38] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بالنقيع بِالدَّنَانِيرِ فآخذ مَكَانهَا الدارهم وأبيع بِالدَّرَاهِمِ فَآخُذُ مَكَانَهَا الدَّنَانِيرَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نقیع بازار میں اونٹ اشرفیوں کے عوض فروخت کرتا تھا ۱؎ پھر اشرفیوں کے عوض درہم لے لیتا تھا اور درہم کے عوض فروخت کرتا تھا پھر ان کے عوض اشرفیاں لے لیتا تھا ۲؎ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کا تذکرہ کیا آپ نے فرمایا اس میں مضائقہ نہیں کہ اس دن کے بھاؤ سے یہ لے لو جب تک کہ تم اس طرح الگ نہ ہو کہ تمہارے درمیان کچھ بقایا ہو۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع